قومی

کانگریس نے جاری کیا اراکین پارلیمنٹ کے لئے وہپ، پارلیمنٹ میں موجود رہنے کی ہدایت، جانئے کیا ہے تین دنوں کا پلان

نئی دہلی: کانگریس نے اپنے راجیہ سبھا اورلوک سبھا اراکین پارلیمنٹ کووہپ جاری کرتے ہوئے 10, 11 اور12 اگست کوپارلیمنٹ میں موجود رہنے کے لئے کہا ہے۔ وہپ جاری کرتے ہوئے کانگریس نے اپنے اراکین پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ بہت ہی اہم موضوع پربحث ہونی ہے۔ نیوزایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے’انڈیا الائنس‘ میں اپنے ساتھی پارٹیوں سے بھی کہا ہے کہ ان کے بھی سبھی اراکین پارلیمنٹ ان تین دن پارلیمنٹ میں موجود رہیں۔

کانگریس کا یہ وہپ ایسے موقع پرجاری ہوا ہے، جب قیاس آرائی ہے کہ اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں ‘فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026’ پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی قیاس آرائی ہے کہ حکومت کی طرف سے حد بندی بل کو بھی پارلیمنٹ میں لایا جاسکتا ہے۔

کانگریس نے وہپ میں کیا کہا؟

راجیہ سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ جے رام رمیش نے اپنے ’تھری-لائن وہپ‘ میں کہا، ’’پیر، منگل اوربدھ کوراجیہ سبھا میں قیاس آرائی کے لئے بہت ضروری موضوعات اٹھائے جائیں گے۔‘‘ ساتھ ہی کہا، ’’راجیہ سبھا میں کانگریس پارٹی کے سبھی اراکین سے گزارش ہے کہ وہ پیر، منگل اوربدھ کوصبح 11:00 بجے سے ایوان کے ملتوی ہونے تک ایوان میں ضرورموجود رہیں اورپارٹی کے رخ کی حمایت کریں۔ یہ بے حد ضروری ہے۔‘‘ لوک سبھا میں بھی کانگریس کے چیف وہپ کے سریش نے پارٹی اراکین پارلیمنٹ کے لئے ایسا ہی وہپ جاری کیا ہے۔

حکومت کی کیا ہے منصوبہ بندی؟

وہیں دوسری طرف، اگلے ہفتے کے متوقع سرکاری کاروبارکا ذکرکرتے ہوئے کرتے ہوئے، پارلیمانی امورکے وزیرمملکت ارجن رام میگھوال نے خواتین کے ریزرویشن اورحد بندی کونافذ کرنے والے ایف سی آراے بل اورآئینی ترمیمی بلوں کا کوئی ذکرنہیں کیا۔ ایف سی آراے بل کے لئے سادہ اکثریت درکارہے جبکہ آئینی ترمیمی بل کے لئے دوتہائی اکثریت درکارہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگراس سیشن میں آئینی ترمیمی بل پیش نہیں کیا گیا تواسے اگلے سیشن میں پیش کیا جا سکتا ہے اور2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لئے اسے نافذ کرنے کے لئے ابھی وقت باقی ہے۔

کیا ہے کانگریس کا ان بلوں پرموقف؟

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں مسلسل اپوزیشن کا ہنگامہ دیکھنے کومل رہا ہے۔ پہلے کانگریس نے طلبا کے احتجاج سے متعلق پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا۔ طلبا کے احتجاج میں شدت کے بعد وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن نے طلبا پردہلی پولیس کی طرف سے کئے گئے لاٹھی چارج کا موضوع اٹھایا۔ کانگریس نے اس موضوع کواٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا کہ طلبا پربربریت کے ساتھ لاٹھیاں برسانے اورآنسوگیس کے گولے چھوڑنے کا حکم کس نے دیا۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس حد بندی بل کی مخالفت کررہی ہے۔ گزشتہ بارجب حکومت نے اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا، تب بھی یہ بل گرگیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، اس باربھی حکومت یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

2 hours ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

3 hours ago