قومی

Objectionable slogans: جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں قابل اعتراض نعروں پر تنازع، سابرمتی ہاسٹل کے باہر نعرے بازی پر ایف آئی آر کی درخواست

نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) انتظامیہ نے سابرمتی ہاسٹل کے باہر مبینہ طور پر قابل اعتراض، اشتعال انگیز اور بھڑکاؤ نعرے لگانے والے طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے پولیس سے باضابطہ درخواست کی ہے۔ یہ واقعہ پیر کی رات پیش آیا، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے امن و امان اور کیمپس کی سلامتی سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔

پروگرام کے دوران پیش آیا واقعہ

یونیورسٹی کے سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پولیس کو ارسال کردہ سرکاری خط کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جے این یو اسٹوڈنٹس یونین (JNUSU) سے وابستہ طلبہ نے 5 جنوری 2020 کو جے این یو میں پیش آنے والے تشدد کے واقعے کی چھٹی برسی کے موقع پر ایک پروگرام منعقد کیا۔ ’’اے نائٹ آف ریزسٹنس ود گوریلا ڈھابا‘‘ کے عنوان سے منعقد اس پروگرام میں تقریباً 30 سے 35 طلبہ شریک تھے، جو سابرمتی ہاسٹل کے باہر جمع ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صورتحال میں تبدیلی

خط میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے آغاز میں اجتماع کا مقصد محض یوم یاد منانا تھا، تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت سے متعلق درخواستوں پر فیصلے کے بعد اجتماع کی نوعیت اور لہجہ نمایاں طور پر تبدیل ہو گیا۔ انتظامیہ کے مطابق اس دوران بعض طلبہ نے انتہائی قابل اعتراض، اشتعال انگیز اور بھڑکاؤ نعرے لگانا شروع کر دیے۔

عدالت عظمیٰ کی توہین اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی

جے این یو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لگائے گئے نعرے براہ راست سپریم کورٹ آف انڈیا کی توہین کے مترادف ہیں اور یہ یونیورسٹی کے ضابطۂ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کے نعرے جمہوری اختلاف رائے کے اصولوں کے منافی ہیں اور ان سے عوامی نظم و نسق، کیمپس کے امن و ہم آہنگی اور یونیورسٹی کے تحفظ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دانستہ اور بار بار نعرے لگانے کا دعویٰ

سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے مطابق نعرے واضح طور پر سنائی دے رہے تھے اور انہیں جان بوجھ کر بار بار دہرایا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی وقتی یا غیر ارادی عمل نہیں بلکہ شعوری بدسلوکی تھی۔ انتظامیہ نے اس عمل کو ادارہ جاتی نظم و ضبط، مہذب مکالمے کے قائم شدہ اصولوں اور یونیورسٹی کے پُرامن تعلیمی ماحول کے خلاف قرار دیا ہے۔

پولیس سے ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل

جے این یو کے چیف سکیورٹی آفیسر نے وسنت کنج (نارتھ) پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت سکیورٹی اہلکار موقع پر موجود تھے اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

قابل ذکر ہے کہ پیر کے روز سپریم کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے ایک معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد جے این یو کیمپس میں یہ واقعہ پیش آیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

11th Whiteswan Responsible Art Festival: 11واں وائٹ سوان آرٹ فیسٹیول: کتھک رقاصہ سنیہا مکھرجی نے مسحور کن پیشکش سے باندھا سماں

سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…

22 minutes ago

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

16 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

17 hours ago