جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں عہدیداران نے مختلف ایشوز پر پریس کانفرنس کی۔
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفترمیں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس میں جماعت کی سینئر قیادت نے تین اہم قومی ایشوزپراظہارخیال کیا۔ بہارمیں انتخابی فہرستوں کا متنازعہ “اسپیشل انٹینسیوریویژن” (ایس آئی آر)، مختلف ریاستوں میں بنگالی زبان بولنے والوں کوہراساں کئے جانے کا معاملہ اورحالیہ مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے فیصلے پراپنے موقف کا اظہارکیا۔ میڈیا کوخطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے بہارمیں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے تحت جاری ایس آئی آرعمل پرسخت تنقید کی اوراسے ’چوردروازے سے این آرسی نافذ کرنے کی کوشش‘ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے جمہوریت کوشدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اس پورے عمل میں تقریباً 2.93 کروڑرائے دہندگان سے ان کی پیدائش اوروالدین کی شہریت سے متعلق دستاویزات طلب کئے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل نے غریب، اقلیتی اورپناہ گزیں آبادیوں خاص طورپرسیمانچل جیسے پس ماندہ علاقوں کے رہنے والے افراد کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف انتخابی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی ان ہدایات کو بھی نظر انداز کرتا ہے جس میں شناختی دستاویزات کی فہرست کا دائرہ بڑھانے اور اس میں آدھار، راشن کارڈ وغیرہ کو تسلیم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ پروفیسر انجینئر سلیم نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات بڑے پیمانے پر شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کر سکتے ہیں۔جب ووٹ دینے جیسے آئینی حقوق خطرے میں پڑ جائیں تو یہ نہ صرف انتظامی ناکامی ہے بلکہ جمہوری اعتماد کے خاتمے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے اس طرح کا عمل ، الیکشن کمیشن کی منشا پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔” انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر الیکشن کمیشن نے غیرجانب داری کا ثبوت نہ دیا تو ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ گراؤنڈ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے نائب امیر جماعت نے کہا کہ بہار میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں، من مانے اندراجات، غلط پتوں اورہزاروں ناموں کے غائب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اگر الیکشن کمیشن اسی روش پر قائم رہا تو اسے جمہوریت کا غیر جانبدار محافظ نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کا آلہ کار تصورکیا جائے گا۔ پروفیسرسلیم انجینئرنے حکومت اور الیکشن کمشین کے سامنے درج ذیل مطالبات پیش کئے۔
بہارمیں ایس آئی آرعمل کو فوری طورپرمعطل کیا جائے جب تک کہ کسی آزاد عدالتی یا پارلیمانی کمیٹی کے ذریعےاس کی جانچ نہ کرا لی جائے۔ کسی بھی مزید نظرثانی سے پہلے واضح اورشفاف ہدایات جاری کی جائیں۔ آدھار، ای پی آئی سی، راشن کارڈ اورمقامی دستاویزات کومتبادل شناخت کے طورپرقبول کیا جائے۔ اس نوعیت کے کسی بھی عمل سے قبل سول سوسائٹی اور مقامی برادریوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ ایس آئی آرکے قانونی جواز، مقاصد اورممکنہ نتائج پرمکمل وضاحت فراہم کی جائے۔ پریس کانفرنس میں مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے میں این آئی اے کورٹ کے حالیہ فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے تمام ملزمان کے بری ہوجانے پر تحقیقاتی ایجنسی کی کارکردگی پراپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بی جے پی ایم پی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کو عدالت نے بری کیا ہے اس سے کئی سنگین قسم کے سوال کھڑے ہو گئے ہیں ۔
رمضان کے دوران مسلمانوں کی اکثریتی بستی میں ہونے والے اس حملے میں 6 افراد شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ 17 سال بعد، ابتدائی شواہد کے باوجود استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ملک معتصم خان نے تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں کے کردار پر سوالات اٹھائے، خاص طور پر 2014 کے بعد جب یہ مقدمہ مہاراشٹر اے ٹی ایس سے لے کر قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کومنتقل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے 2015 میں خصوصی پبلک پراسیکیوٹرروہنی سالیان کے بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد ان سے کہا گیا کہ “ملزمان کے ساتھ نرمی برتی جائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایسی مداخلتیں انصاف اور عوامی اعتماد کومجروح کرتی ہیں۔ ہمیں پوچھنا ہوگا 17 سال کی مدت میں ایک مضبوط مقدمہ کیوں نہ بن سکا؟ کیا اس فیصلے کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے چیلنج کیا جائے گا جتنی سنجیدگی دیگر مقدمات میں مسلمانوں کے خلاف نظر آتی ہے؟ کیا ایک ملزم کو مقدمہ مکمل ہونے سے پہلے سیاسی پلیٹ فارم دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف نہیں ہے؟
ملک معتصم خان نے حکومت سے درج ذیل مطالبات کئے۔
1.مقدمے کے تفتیشی عمل کی آزادانہ عدالتی جانچ کرائی جائے۔
2. عدالت میں استغاثہ کی ناکامیوں کا احتساب کیا جائے۔
3. اس کی بھی جانچ کرائی جائے کہ آیا کسی سیاسی یا نظریاتی مداخلت نے مقدمے کی سمت کو متاثر کیا ہے۔
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے کہا کہ یہ انتقام لینے کا نہیں بلکہ انصاف، ادارہ جاتی دیانت داری اور قانون کی برابری کا معاملہ ہے۔
بنگالی بولنے والے پناہ گزینوں خاص طور پر مسلمانوں کو مختلف ریاستوں میں ہراساں کئے جانے پر اپنی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے سیکرٹری ندیم خان نے کہا کہ یہ مسئلہ اب ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسے شہری جن کے پاس آدھاراورووٹر شناختی کارڈ جیسے درست دستاویزات موجود ہیں، انہیں صرف بنگالی بولنے کی بنیاد پر بنگلہ دیشی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دہلی کی جھگی بستیوں (جے جے کالونی) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پولیس اہلکارکہتے ہیں ’’تم بنگالی بولتے ہو، اس لیے تم بنگلہ دیشی ہو۔” اسی طرح آسام میں غیرقانونی حراست اورسرحد پار نکالے جانے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی، جہاں مئی 2025 سے اب تک 300 سے زائد افراد، جن میں بزرگ، خواتین اور بچے شامل ہیں، کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
ندیم خان نے کہا کہ زبان و شناخت کی بنیاد پر برتا جانے والا یہ بھید بھاؤ نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ غیر انسانی بھی ہے۔ یہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی صریح خلاف ورزی ہے اور انسانی وقار کو مجروح کرتا ہے۔ اس ضمن میں عالمی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے ندیم خان نے کہا کہ نسل پرستی کے خلاف بنائی گئی اقوام متحدہ کی کمیٹی بھارت میں امتیازی شہریت پالیسیوں پر اپنی تشویش کا اظہار پہلے ہی کر چکی ہے۔
ندیم خان نے حکومت سے مطالبہ کیا:
بنگالی بولنے والے شہریوں کی تمام غیرقانونی حراستوں اورملک بدریوں کوفوری طورپرروکا جائے اورقانونی ضابطے کے مطابق عمل کیا جائے۔
2. اغوا، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
3. سی اے اے جیسے متنازعہ قوانین میں ترمیم یا منسوخی کی جائے اور این آر سی و فارنرز ٹریبیونلز کو غیر امتیازی طریقے سے نافذ کیا جائے۔
4. غیر قانونی طور پر ملک بدر یا قید کئے گئے خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور ان کی بازآبادکاری کی جائے۔
5. لسانی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر بیداری اور قانونی امداد کی مہم شروع کی جائے۔
6. آئینی تحفظات کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے اور نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن پرسختی سے لگام لگائی جائے ۔
ندیم خان نے مزید کہا کہ ہم سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے سے منہ نہ موڑیں۔ یہ صرف بنگالیوں یا مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کی روح اور اس کے آئینی اصولوں کا امتحان بھی ہے۔
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…
پولیس کے مطابق ملن پردھان کو پرانے مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔…
بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور امریکی کمپنیوں پر کیا ہوگا اثر؟ موجودہ ویزا ہولڈرز اور…
ناگویا کے میزُوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں 20ویں ایشین گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب،…
آئیچی-ناگویا ایشین گیمز میں بھارت کے 30 نشانے باز لیں گے حصہ، رائفل، پسٹل اور…