قومی

Basavaraj Rayareddy Statement:’’اسلام تمام مذاہب سے افضل…‘‘،کرناٹک کے وزیرکے بیان پرسیاسی تنازع،بی جے پی نے کیا معافی کا مطالبہ

نئی دہلی: کرناٹک کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر بسوراج رائے ریڈی کے اسلام سے متعلق بیان پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ رائے ریڈی نے مسلم برادری کی اجتماعی شادی کی ایک تقریب میں اسلام کو دیگر مذاہب کے مقابلے میں ’’افضل مذہب‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے مکہ جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے وہ وہاں نہیں جا سکتے۔ وزیر کے اس بیان پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بسوراج رائے ریڈی نے اتوار کو کوپل ضلع کے ککنور میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں کہنا چاہوں گا کہ اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں افضل مذہب ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسلام کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے قرآن کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب اور ان کی تاریخ کا بھی مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ رائے ریڈی نے اسلام کو انتہائی منظم، سائنسی اور انسانی مذہب قرار دیتے ہوئے لوگوں سے تمام مذاہب کو پڑھنے اور سمجھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو انتہا پسند یا ذات پات پر مبنی سوچ کا حامل نہیں بننا چاہیے۔

’’تمام مذاہب کا احترام کیا جانا چاہیے‘‘

کرناٹک کے وزیر نے کہا کہ تمام مذاہب کا احترام کیا جانا چاہیے اور ان میں موجود اچھی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق مذاہب کا بنیادی مقصد انسانیت کی بھلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو صرف مذہبی مقامات پر جانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مذاہب کی تعلیمات کو سمجھ کر اپنی زندگی میں بھی اختیار کرنا چاہیے۔

مکہ جانے کی خواہش کا بھی کیا اظہار

رائے ریڈی نے کہا کہ اسلام ایک اچھا مذہب ہے اور وہ مکہ جانے کے بارے میں بہت سوچتے ہیں، لیکن وہاں نہیں جا سکتے، کیونکہ اس کے لیے اسلام قبول کرنا ضروری ہوگا۔ انہوں نے اسے اسلام کی مذہبی روایت قرار دیا۔ انہوں نے لوگوں سے صرف مسجد جانے کے بجائے اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بھی اپیل کی۔ کرناٹک اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی لیڈر آر اشوک نے رائے ریڈی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسلام کو دوسرے مذاہب سے افضل قرار دے کر وزیر نے سناتن دھرم کو کمتر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ آر اشوک نے مطالبہ کیا کہ بسوراج رائے ریڈی اپنا بیان واپس لیں اور ریاست کے ہندوؤں سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر ایسا نہیں کرتے تو وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو انہیں کابینہ سے برطرف کر دینا چاہیے۔

’’کانگریس حکومت کی ہندو مخالف ذہنیت کا کوئی اختتام نہیں؟‘‘

بی جے پی لیڈر نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ کیا کانگریس حکومت کی ’’ہندو مخالف ذہنیت‘‘ کا کوئی اختتام نہیں ہے؟ انہوں نے کانگریس کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ پارٹی تمام مذاہب کا یکساں احترام کرتی ہے۔ آر اشوک نے کہا کہ اگر رائے ریڈی نہ تو معافی مانگتے ہیں اور نہ ہی انہیں کابینہ سے ہٹایا جاتا ہے تو کرناٹک کے کروڑوں ہندو یہی سمجھیں گے کہ کانگریس حکومت کا ہندو مذہب کے تئیں احترام صرف ووٹ حاصل کرنے اور دکھاوے تک محدود ہے۔ انہوں نے کانگریس پر ’’ہندو مخالف‘‘ ہونے کا بھی الزام عائد کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی…

18 minutes ago

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار…

33 minutes ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

47 minutes ago