دہلی کے شاہی عیدگاہ پارک میں رانی لکشمی بائی کا مجسمہ نصب کرنے کے تنازعہ پر آج دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران عدالت نے سخت تبصرہ کیا اور کہا کہ رانی لکشمی بائی کے مجسمہ سے نماز میں کیا دقت آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 1857 کی جنگ اور اس میں رانی لکشمی بائی کے کردار کو فراموشش نہیں کرسکتے۔ وہ ایک قومی پہچان ہیں ۔ ان کی بہادری اور جرات کی داستان کو کیسے بھلا یا جاسکتا ہے۔عدالت نے کہا کہ رانی لکشمی بائی کو آپ مذہبی رہنما کے طور پر نہیں دیکھ سکتے چونکہ وہ مذہبی رہنما نہیں بلکہ وہ قومی جاں باز تھیں۔
حالانکہ شاہی عید گاہ کمیٹی نے پہلے اس مخالفت پر معافی کا اظہار کرچکی ہے جس کو عدالت نے قبول بھی کرلیا ہے البتہ آج کی سماعت میں عدالت کا یہ تبصرہ واضح کرتا ہے کہ دہلی کے شاہی عید گاہ پارک میں رانی لکشمی بائی کا مجسمہ لگنا قریب قریب طے ہے ،چونکہ جس جگہ پر یہ مجسمہ نصب ہونا ہے وہ زمین ڈی ڈی اے کی بتائی جارہی ہے ،حالانکہ گزشتہ دنوں اس پورے معاملے پر کافی ہنگامہ ہوا تھا جس کی وجہ سے ایم سی ڈی چیئرمین نے مجسمہ کو نصب کرنے کے معاملے کو آگے کیلئے ٹال دیا تھا۔ اب اس معاملے پر دہلی ہائی کورٹ کی سنگل بنج جمعہ یعنی چار اکتوبر کو سماعت کرےگی۔
بھارت ایکسپریس۔
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…