قومی

Delhi Elections 2025: دو بار الیکشن ہارے، پھر AAP میں آئے، اس کے بعد سیاسی کیریئر نے بھری اُڑان، جانئے امانت اللہ خان کا سیاسی سفر

نئی دہلی: اوکھلا اسمبلی سیٹ سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان ایک بار پھر دہلی اسمبلی انتخابات میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے اس نشست پر قابض ہیں۔ امانت اللہ خان اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ان کی شادی شافعہ خان سے ہوئی اور وہ اس وقت ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے والد ہیں۔

امانت اللہ خان کا سیاسی سفر 2008 میں شروع ہوا، جب انہوں نے لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے امیدوار کے طور پر دہلی اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا۔ حالانکہ، 2008 اور 2013 کے انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد 2015 میں انہوں نے عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد ان کا سیاسی کیریئر عروج پر ہے۔

امانت اللہ خان نے 2015 اور 2020 کے دہلی اسمبلی انتخابات عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر جیتے تھے۔ اوکھلا میں ان کی پوزیشن مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ امانت اللہ خان عام آدمی پارٹی کے بڑے مسلم چہروں میں سے ایک ہیں۔

شاہین باغ کے علاقے میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہروں میں ان کی سرگرمی کے لیے ان کا نام خبروں میں تھا۔ اگر افواہوں کی مانیں تو انہوں نے احتجاج میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بی جے پی نے ان پر لوگوں کو اکسانے کا الزام لگایا تھا۔

امانت اللہ خان کا سیاسی سفر تنازعات سے بھی جڑا رہا ہے۔ وہ کئی بار گرفتار ہو چکے ہیں۔ انہیں دہلی پولیس نے 2016 میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب ایک خاتون نے الزام لگایا تھا کہ ایم ایل اے نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے بعد ان کے سالے کی بیوی نے ان پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ فروری 2018 میں دہلی کے چیف سکریٹری پر حملہ کے معاملے میں ان کا نام سامنے آیا تھا جس کی وجہ سے انہیں پھر سے گرفتار کیا گیا۔

دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے انہیں مالی خرد برد کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس معاملے میں بھی انہیں گرفتار کیا گیا۔ 2024 میں ان کا نام نوئیڈا کے ایک پٹرول پمپ پر ملازمین کو دھمکیاں دینے کے الزام میں بھی آیا تھا، جس پر عدالت نے ان کے گھر کو قرق کرنے کا بھی حکم دیا تھا، حالانکہ بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں راحت دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی تھی۔

امانت اللہ خان نے دہلی میں جاری بلڈوزر کارروائی کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ حالانکہ، بعد میں انہیں ضمانت مل گئی۔ اس دوران ان کے خلاف ایم سی ڈی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

امانت اللہ خان اس وقت اوکھلا اسمبلی سیٹ سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ اوکھلا کے مسلم اکثریتی علاقے میں ان کی بنیاد مضبوط ہے۔ امانت اللہ خان کے اقدامات اور تنازعات نے انہیں دہلی کی سیاست میں ایک ممتاز اور متنازعہ شخصیت کے طور پر قائم کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

7 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

8 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

8 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

9 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

10 hours ago