قومی

India’s defense sector: بھارت کا دفاعی شعبہ ترقی کی نئی بلندیوں پر، برآمدات اور پیداوار میں تاریخی اضافہ

بھارتی دفاعی شعبہ حالیہ برسوں میں حیران کن ترقی کا مظہر بن چکا ہے۔ جہاں ایک جانب ملکی دفاعی پیداوار اور برآمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے، وہیں بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت اب محض ایک خریدار نہیں بلکہ ایک مستحکم سپلائر کے طور پر ابھرا ہے۔ دنیا بھر میں جاری جغرافیائی کشیدگیوں نے ایک بار پھر اس شعبے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

ریکارڈ برآمدات، مضبوط پیداوار

بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ مالی سال 2024-25 میں دفاعی برآمدات 23,622 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں، جو کہ 2013-14 میں محض 686 کروڑ روپے تھی۔ یعنی برآمدات میں 34 گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی پیداوار رواں سال 1.60 لاکھ کروڑ روپے کا ہدف عبور کر سکتی ہے اور حکومت نے 2029 تک اسے 3 لاکھ کروڑ روپے تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض اہداف نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اب دفاعی درآمدات پر انحصار کم کرکے ایک خود کفیل اور’’آتم نربھر بھارت‘‘ بننے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

بھارت: ایک نیا عالمی دفاعی برانڈ

حال ہی میں بھارت-پاکستان کشیدگی کے دوران بھارتی دفاعی نظاموں نے اپنی مؤثریت اور تکنیکی برتری کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس سے نہ صرف بھارتی دفاعی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا بلکہ بھارت کو عالمی دفاعی برآمدات کے قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر بھی دیکھا جانے لگا ہے۔

عالمی دفاعی اخراجات میں تیزی

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق 2024 میں دنیا بھر کے دفاعی اخراجات $2,718 ارب تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 9.4 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ سرد جنگ کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اب دفاعی اخراجات عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 2.5 فیصد کے برابر ہو چکے ہیں۔ بھارت کی دفاعی برآمدات اس وقت عالمی دفاعی مارکیٹ کا محض 0.1 فیصد ہیں (یعنی تقریباً $2.7 ارب)، جب کہ اندازہ ہے کہ اگر یہ حصہ 2030 تک 1 فیصد تک پہنچ جائے تو بھارت کی برآمدات $30 ارب کی سطح پر جا سکتی ہیں۔

خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت

SIPRI کے اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ بھارت کی اسلحہ درآمدات میں 2015-19 سے 2020-24 کے درمیان 9.3 فیصد کمی آئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ بھارت مقامی سطح پر اپنی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے تحت کئی نجی اور سرکاری کمپنیاں دفاعی آلات کی تیاری میں آگے آ رہی ہیں۔ اب یہ کمپنیاں صرف ملکی ضروریات نہیں بلکہ عالمی دفاعی سپلائی چین کا حصہ بھی بن رہی ہیں۔

مستقبل کا خاکہ اور سرمایہ کاری کے مواقع

حکومت نے 2029 تک دفاعی برآمدات کو ₹50,000 کروڑ تک لے جانے کا ہدف طے کیا ہے۔ ملکی طلب میں مسلسل اضافہ، مقامی تیاری پر زور، اور سازگار پالیسی ماحول کی بدولت دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع ابھر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کورونا کے بعد جو تیزی دفاعی اسٹاکس میں دیکھی گئی تھی، اس کے بعد کچھ عرصہ استحکام رہا، مگر اب ایک نئی طویل المدتی تیزی کی لہر دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ شعبہ ایک بار پھر دلچسپی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Dhanteras 2026: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سمیت کئی لیڈروں نے ملک کے عوام کو دھن تیرس کی مبارکباد دی

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے دھن تیرس کے موقع پر تمام ملک کے باشندوں کو…

15 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام کو دی دھن تیرس کی مبارکباد پیش کی

دھن تیرس، جسے دھن تریودشی بھی کہا جاتا ہے، کے موقع پر بھگوان دھنونتری کی…

54 minutes ago

A tragic road accident in Jharkhand: جھارکھنڈ میں دردناک سڑک حادثہ ، بے قابو ٹرک نے کئی لوگوں کو روند ا، 7 افراد ہلاک

پولیس موقع پر پہنچ گئی اور زخمی شخص کو علاج کے لیے اسپتال پہنچایا گیا۔کھونٹی…

2 hours ago

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

11 hours ago