ممبئی: بھارت اور امریکہ کے درمیان ریسپروکل ٹیرف میں کمی سے متعلق طے پانے والے تجارتی معاہدے کے بعد عام صارفین کے لیے اچھی خبر سامنے آ رہی ہے۔ اس ٹریڈ ڈیل کے نتیجے میں ملک میں کئی روزمرہ اور صنعتی اشیا کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔ ٹیکنالوجی مصنوعات سے لے کر زرعی اشیا تک، متعدد شعبے اس معاہدے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، اس معاہدے کے بعد لیپ ٹاپ، موبائل فون، الیکٹرانک گیجٹس، کنزیومر الیکٹرانکس اور ان کے پرزہ جات کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے۔ درآمدی اخراجات کم ہونے سے گھریلو آلات (ہوم اپلائنسز) اور پیکجڈ الیکٹرانک مصنوعات بھی سستی ہو سکتی ہیں۔
اس ٹریڈ ڈیل کے تحت دالیں، ڈیری پروڈکٹس، پروسیسڈ فوڈ اور دیگر زرعی اشیا پر درآمدی ڈیوٹی کم ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے غذائی مہنگائی کے دباؤ کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ حالانکہ، معاہدے کی مکمل شرائط کا سرکاری اعلان ابھی باقی ہے۔
بھارت کا ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر اس معاہدے سے بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح جیمز اینڈ جیولری، جو بھارت کا اہم برآمدی شعبہ ہے، اسے بھی امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی ملنے کی امید ہے۔
انجینئرنگ پروڈکٹ کی برآمدات میں بھی اضافہ
اسٹیل، کیمیکل اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ حالانکہ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیل، ایلومینیم اور کاپر جیسی کچھ اشیا پر اب بھی تقریباً 50 فیصد تک ڈیوٹی برقرار رہ سکتی ہے۔ کچھ آٹو موبائل پارٹس پر بھی زیادہ ٹیرف لگے رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر گفتگو کے بعد یہ تجارتی معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کم کرکے 18 فیصد کر دیا ہے، جبکہ بھارت نے بھی امریکی مصنوعات پر نان ٹیرف رکاوٹیں کم کی ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ڈیل میں بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خرید میں کمی اور امریکہ و ممکنہ طور پر وینزویلا سے تیل درآمد بڑھانے پر بھی بات ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…
وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…
ڈاکٹر کا الزام ہے کہ فلیٹ میں اتولیا سمیت 12 افراد موجود تھے۔ جیسے ہی…
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…
یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…
وزیراعظم مودی کے نام لکھے گئے خط میں ماہر تعلیم اور ممتاز دانشور پروفیسر اخترالواسع…