نئی دہلی: بھارت اور نیوزی لینڈ نے پیر کے روز ایک اہم آزادانہ تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ/ایف ٹی اے) پر دستخط کر دیے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو نیوزی لینڈ کی منڈیوں تک ٹیرف فری رسائی حاصل ہو جائے گی، جبکہ دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت کو دوگنا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ معاہدہ رواں سال بھارت کی جانب سے کیا گیا تیسرا بڑا تجارتی سمجھوتہ ہے، اس سے قبل برطانیہ اور عمان کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے طے پا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بھارت کی عالمی تجارتی حکمت عملی اور ہند-بحرالکاہل خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے اقتصادی کردار کی عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر جغرافیائی اور سیاسی کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔
اس معاہدے سے بھارت کے محنت طلب شعبوں کو خاص فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ ٹیکسٹائل، ملبوسات، لیدر، جوتے، سمندری مصنوعات، جواہرات و زیورات، دستکاری، انجینئرنگ اشیا اور آٹوموبائل سیکٹر کو نیوزی لینڈ کی منڈیوں میں بہتر مسابقت حاصل ہوگی، جس سے بھارتی مصنوعات عالمی ویلیو چین کا مزید مضبوط حصہ بن سکیں گی۔ بھارت نے اس معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ کو 70 فیصد سے زائد ٹیرف لائنز میں مارکیٹ تک رسائی دی ہے، جو مجموعی دوطرفہ تجارت کی مالیت کے تقریباً 95 فیصد حصے کا احاطہ کرتی ہے، تاہم تقریباً 30 فیصد مصنوعات کو اس دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ نے اگلے 15 برسوں میں بھارت میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس معاہدے کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کرتے ہوئے کہا کہ صرف نو ماہ میں طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ دونوں ممالک کی مضبوط سیاسی خواہش اور مشترکہ اقتصادی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن سے فون پر بھی بات کی اور اس پیش رفت کو دوطرفہ تعلقات کے لیے سنگ میل قرار دیا۔
بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے میں کسانوں اور گھریلو صنعتوں کے تحفظ کو ترجیح دی گئی ہے۔ ڈیری مصنوعات، کافی، دودھ، کریم، پنیر، دہی، وہے، کیسین، پیاز، چینی، مصالحہ جات، خوردنی تیل اور ربڑ کو مارکیٹ رسائی سے خارج رکھا گیا ہے۔ وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے کے تحت اپنے ڈیری سیکٹر کو کبھی نہیں کھولے گا۔ پیوش گوئل کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ نئے شعبوں اور مصنوعات کے ذریعے برآمدات میں تنوع لانے میں بھی مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا فائدہ ملک کے ہر خطے—شمال، جنوب، مشرق، مغرب اور شمال مشرق—کو مختلف صورتوں میں حاصل ہوگا۔
معاہدے میں تکنیکی تعاون کے نئے پہلو بھی شامل ہیں، خاص طور پر پھلوں کی کاشت، شہد کی پیداوار اور ڈیری سے وابستہ جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے میں، جس سے بھارتی کسانوں اور ڈیری سے وابستہ افراد کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ ایف ٹی اے کے تحت بھارتی پیشہ ور افراد، طلبہ اور نوجوانوں کے لیے داخلے اور قیام کے بہتر مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ تعلیم کے دوران کام کرنے، تعلیم مکمل ہونے کے بعد روزگار کے راستے، مخصوص ویزا انتظامات اور ورکنگ ہالیڈے ویزا فریم ورک اس معاہدے کا حصہ ہیں۔ ہنرمند بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے تین سال تک قیام کی اجازت کے ساتھ پانچ ہزار عارضی روزگار ویزوں کا کوٹہ بھی مقرر کیا گیا ہے، جس میں آیوش معالجین اور یوگا انسٹرکٹرز جیسے پیشے شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…