آدھار سے منسلک ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کے ذریعے بھارت نے اپنے فلاحی نظام میں ہونے والے مالی رساؤ میں تقریباً 13 فیصد کی نمایاں کمی درج کی ہے۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (BCG) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس کامیابی نے بھارت کو عوامی فلاح و بہبود کے نظام میں شفافیت اور دیانت داری کے اعتبار سے عالمی سطح پر ایک مثال بنا دیا ہے۔
عالمی سطح پر فلاحی ادائیگیوں کا بحران
بی سی جی کی رپورٹ، جس کا عنوان “Closing the Trillion-Dollar Gap in Public Payments” ہے، میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں ہر سال شہریوں کی پنشن، صحت اور بنیادی ضروریات کے لیے 21 کھرب امریکی ڈالر سے زائد رقم خرچ کرتی ہیں، تاہم ناقص نظام، دھوکہ دہی اور انتظامی خامیوں کے باعث تقریباً 3 کھرب ڈالر ضائع ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت ان مسائل سے نمٹنے کی ایک کامیاب مثال بن کر ابھرا ہے۔
آدھار سے منسلک نظام نے رساؤ پر لگائی لگام
رپورٹ کے مطابق بھارت میں جن ریاستوں نے آدھار سے منسلک ڈیجیٹل ادائیگیوں اور بایومیٹرک تصدیق، خصوصاً فنگر پرنٹ ویری فکیشن، کو اپنایا ہے وہاں فلاحی اسکیموں میں رساؤ تقریباً 12.7 فیصد تک کم ہوا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اصلاحات مستحق افراد کو نظام سے خارج کیے بغیر نافذ کی گئیں۔ ان اقدامات کے ذریعے بھارت ہر سال تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر کی بچت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو فرضی ناموں کے خاتمے اور دوہری ادائیگیوں کی روک تھام سے ممکن ہوئی ہے۔
ریاستی سطح پر کامیاب مثالیں
آندھرا پردیش، جھارکھنڈ اور راجستھان جیسی ریاستیں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ کس طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے فلاحی امداد آخری مستحق شخص تک براہِ راست پہنچائی جا سکتی ہے۔ اب لاکھوں افراد کو راشن، گھریلو گیس سبسڈی اور روزگار کی اجرت بروقت اور شفاف انداز میں مل رہی ہے، جس سے درمیانی دلالوں کا کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
بی سی جی کی قیادت کا مؤقف
بی سی جی کے پبلک سیکٹر پریکٹس کے انڈیا لیڈر ماریو گونزالویس نے کہا کہ دنیا بھر میں عوامی ادائیگی کے نظام ہر سال دھوکہ دہی اور غلطیوں کے باعث تقریباً 3 کھرب ڈالر کا نقصان اٹھاتے ہیں، ایسے میں بھارت کے پاس گورننس اصلاحات کی قیادت کرنے کا ایک منفرد موقع ہے۔ ان کے مطابق عوامی خدمات اور ادائیگیوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تیز رفتار استعمال نے نظام میں شفافیت کو بنیاد ہی سے شامل کر دیا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حل فلاحی اسکیموں میں رساؤ کو مزید کم کر سکتے ہیں۔
دیگر ممالک کے لیے قابلِ تقلید ماڈل
بی سی جی کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بھارت کا ڈیجیٹل فلاحی ماڈل دیگر ممالک کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومتیں عوامی اخراجات کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنا سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ شہریوں کے لیے فلاحی فوائد تک رسائی مشکل ہو۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کا تجربہ عالمی سطح پر بہتر گورننس اور عوامی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘…
ٹک ٹاک کی بنیادی کمپنی بائٹ ڈانس کے بانی ژانگ یِمنگ ایشیا کے امیر ترین…
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…