ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے مطابق نومبر کے مہینے میں ملک کی مجموعی معاشی سرگرمیاں مستحکم رہیں اور طلب کی صورتحال میں مضبوطی برقرار رہی، تاہم مینوفیکچرنگ اور دیہی علاقوں کی طلب میں کچھ حد تک سست روی کے آثار نظر آئے، جب کہ خدماتی شعبہ مسلسل مضبوط بنا رہا۔
ہائی فریکوئنسی اشاریوں سے مضبوطی کا عندیہ
آر بی آئی کے دسمبر بلیٹن میں شائع شدہ اسٹیٹ آف دی اکانومی مضمون کے مطابق تہواروں کے بعد کے مہینے نومبر میں بھی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ جی ایس ٹی محصولات میں کمی درج کی گئی، جس کی بڑی وجہ جی ایس ٹی شرحوں میں عقلی اصلاحات رہیں، تاہم ای-وے بلز، پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں جیسے دیگر ہائی فریکوئنسی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں کے مضبوط رہنے کی تصدیق ہوتی ہے۔
شہری طلب نے سنبھالا، دیہی شعبے میں ملا جلا رجحان
آر بی آئی کے مطابق شہری علاقوں میں طلب میں اضافے نے معیشت کو سہارا دیا۔ مسافر گاڑیوں کی خوردہ فروخت ایک سال سے زائد عرصے میں تیز ترین رفتار سے بڑھی، جس کی وجہ جی ایس ٹی مراعات، شادیوں کے سیزن کی مانگ اور سپلائی کی بہتر صورتحال رہی۔ اسی طرح گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد میں بھی مئی 2025 کے بعد سب سے تیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب ربیع فصل کے بہتر امکانات، جی ایس ٹی میں کمی اور کم از کم امدادی قیمتوں میں اضافے کے سبب ٹریکٹر فروخت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، تاہم تہواروں کے بعد دیہی علاقوں میں آٹو موبائل فروخت میں نمایاں کمی سامنے آئی، جس کی ایک وجہ منفی بیس ایفیکٹ بھی بتایا گیا ہے۔
ترقی کی رفتار میں آئندہ کمی کا خدشہ
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے حالیہ مانیٹری پالیسی جائزے کے دوران کہا کہ اگرچہ مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں گھریلو معاشی سرگرمیاں مضبوط رہیں، لیکن بعض اہم ہائی فریکوئنسی اشاریے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ سال کے دوسرے نصف میں ترقی کی رفتار پہلی ششماہی کے مقابلے میں کچھ سست ہو سکتی ہے۔
روپے کی قدر اور عالمی دباؤ
مرکزی بینک کے مطابق نومبر کے دوران بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوا، جس کی بنیادی وجوہات میں امریکی ڈالر کی مضبوطی، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں کمی اور بھارت و امریکہ کے تجارتی معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل رہی۔ تاہم آر بی آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ روپے میں اتار چڑھاؤ دیگر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں نسبتاً کم رہا، جب کہ حقیقی مؤثر شرح کے لحاظ سے نومبر میں روپیہ مجموعی طور پر مستحکم بنا رہا۔
مہنگائی اور مانیٹری پالیسی کا منظرنامہ
نومبر میں خوردہ مہنگائی اکتوبر کی تاریخی کم سطح 0.3 فیصد سے بڑھ کر 0.7 فیصد تک پہنچ گئی، جس کی ایک بڑی وجہ منفی بیس ایفیکٹ رہی، تاہم مہنگائی مسلسل تیسرے مہینے بھی آر بی آئی کی نچلی حد 2 فیصد سے کم رہی۔ بنیادی مہنگائی 4.3 فیصد پر مستحکم رہی، جبکہ سونے اور چاندی کی قیمتوں کے اثر کو نکال دیا جائے تو یہ 2.4 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر آ گئی۔ اسی سازگار مہنگائی کے منظرنامے کے پیش نظر مانیٹری پالیسی کمیٹی نے رواں ماہ ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 5.25 فیصد کر دیا۔
خوراکی قیمتوں میں تازہ رجحانات
دسمبر کے ابتدائی دنوں میں دستیاب ہائی فریکوئنسی اعداد و شمار کے مطابق اناج کی قیمتوں میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ دالوں میں چنے کی قیمتوں میں نرمی اور تور یا ارہر دال کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا۔ خوردنی تیلوں میں سورج مکھی اور مونگ پھلی کے تیل مہنگے ہوئے، جب کہ سبزیوں میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں بڑھیں اور آلو کی قیمتوں میں قدرے کمی دیکھی گئی۔
مجموعی جائزہ اور آگے کی راہ
آر بی آئی کے مطابق اگرچہ بھارتی معیشت عالمی سطح پر موجود دباؤ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے، تاہم مربوط مالی، مانیٹری اور ضابطہ جاتی پالیسیوں نے سال بھر معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مضبوط گھریلو طلب، بہتر بنیادی معاشی اشاریے اور اصلاحات پر مسلسل توجہ کے باعث بھارتی معیشت بدلتے عالمی حالات کے باوجود بلند شرح نمو کی سمت میں گامزن رہ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…