قومی

Matua Community: متوا برادری سے وزیر اعظم مودی کی رسائی کیوں اہم ہے؟

کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست اور سماجی تاریخ میں متوا برادری ایک ایسی جماعت ہے جس کے زخم صدیوں پرانے ہیں اور جس کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ 20 دسمبر 2025 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے نادیہ ضلع میں متوا برادری کے ایک بڑے اجتماع سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اس حقیقت کو ایک بار پھر قومی سطح پر اجاگر کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے متوا دھرم کے روحانی رہنماؤں ہری چند ٹھاکر، گرو چند ٹھاکر اور بارو ماں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی سماجی اصلاح، برابری اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کو ویشنو روایت سے جوڑتے ہوئے سراہا۔ وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون نے متوا خاندانوں کو وقار، تحفظ اور ایک مستقل شناخت دی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر آئندہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو متوا برادری کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے اس خطاب کا وقت بھی خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ 2025 میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران کئی متوا خاندان دستاویزات کے فقدان کے باعث حقِ رائے دہی سے محرومی کے خدشات میں مبتلا تھے۔

متوا برادری کی تاریخ مظالم اور جلاوطنی سے بھری ہوئی ہے۔ یہ برادری بنیادی طور پر نامشودر ذات سے تعلق رکھتی ہے، جسے ماضی میں چنڈال کہا جاتا تھا۔ انیسویں صدی میں مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) میں ہری چند ٹھاکر نے اس تحریک کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں ان کے بیٹے گرو چند ٹھاکر نے منظم کیا۔ متوا دھرم ذات پات کی نفی، بے شکل خدا کی عبادت اور تعلیم کے ذریعے سماجی وقار پر زور دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریک دلت اور محروم طبقات میں تیزی سے پھیلی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں فرقہ وارانہ کشیدگی نے متوا برادری کو نشانہ بنایا۔ 1911 میں جیسور-کھلنا کے فسادات، 1946 کے نوکھالی فسادات اور 1947 کی تقسیم ہند کے دوران ہونے والے تشدد نے ان کی زندگی اجیرن کر دی۔ تقسیم کے بعد مشرقی پاکستان میں 1949-50 کے دوران نامشودر بستیوں پر حملوں نے بڑے پیمانے پر ہجرت کو جنم دیا۔ اندازوں کے مطابق 1956 تک 20 لاکھ سے زائد متوا بھارت آ چکے تھے۔ بعد میں 1964 کے حضرت بل فسادات اور 1971 کی جنگ کے دوران بھی ہندو اقلیتوں، خصوصاً متوا برادری، کو شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت آنے کے بعد بھی ان کی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ مغربی بنگال میں پناہ گزین کیمپوں کی ابتر حالت، ریاستی بے حسی، ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور دور دراز علاقوں میں بسانے کی پالیسیوں نے ان کے مسائل کو مزید گہرا کیا۔ 1980 کی دہائی کے بعد کئی متوا خاندانوں کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر ہراساں کیا گیا، جس سے ان کے اندر عدم تحفظ کا احساس بڑھتا گیا۔ اسی پس منظر میں شہریت ترمیمی قانون کو متوا برادری کے لیے ایک تاریخی اصلاح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مودی حکومت نے اس قانون کے ذریعے بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت کا راستہ فراہم کیا، جس کا سب سے زیادہ فائدہ متوا خاندانوں کو ہوا۔ وزیر اعظم مودی بارہا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ سی اے اے کسی کے حقوق چھیننے کے لیے نہیں بلکہ ستائے گئے لوگوں کو انصاف دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس کے برعکس مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی ترنمول کانگریس نے سی اے اے کی سخت مخالفت کی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ یہ مخالفت دراصل ووٹ بینک کی سیاست کا نتیجہ ہے، کیونکہ متوا برادری اس قانون کی سب سے بڑی مستفید ہے۔ حالیہ برسوں میں ترنمول قیادت کے بعض بیانات، خصوصاً رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کے متنازع ریمارکس، نے متوا برادری میں ناراضی کو مزید بڑھایا۔ وزیر اعظم مودی کی جانب سے متوا برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ محض انتخابی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک تاریخی ناانصافی کے ازالے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 2021 میں بنگلہ دیش کے اوراکانڈی ٹھاکرباڑی کا دورہ، 2022 میں ٹھاکر نگر میں متوا دھرم مہا میلے سے خطاب اور سنتانو ٹھاکر کو مرکزی وزیر بنانا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں متوا برادری کا موقف فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ایسی برادری جو دہائیوں تک حاشیے پر رہی، اب اپنی شناخت، شہریت اور وقار کے سوال پر متحد نظر آ رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی رسائی نے انہیں یہ احساس دلایا ہے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور یہی احساس مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

7 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

7 hours ago