نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی جولائی کے آغاز میں اپنے تین ملکی دورے کے تحت آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ایک دیگر ملک کا دورہ کریں گے۔ اس سلسلے میں آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھنی البانیز نے کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا-بھارت سالانہ لیڈر سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی کا آسٹریلیا میں استقبال کرنے کے لیے بے حد پُرجوش ہیں۔ وزیراعظم مودی کا آسٹریلیا کا دورہ 8 سے 10 جولائی تک جاری رہے گا، جس کے دوران دونوں لیڈر اہم دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔
آسٹریلوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، انتھنی البانیز میلبورن میں سالانہ لیڈرز سمٹ کے تحت وزیراعظم مودی کی میزبانی کریں گے۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے، جس کی وجہ سے وہ آسٹریلیا کے لیے ایک انتہائی اہم اقتصادی شراکت دار بن چکا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اقتصادی روابط، ثقافتی رشتوں اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر استوار ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
آسٹریلوی حکومت کے مطابق تجارت، دفاع، سلامتی، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے مثبت نتائج دونوں ملکوں کو حاصل ہو رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ شراکت داری نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیراعظم انتھنی البانیز نے یاد دلایا کہ ان کی وزیرِ اعظم مودی سے آخری ملاقات نومبر 2025 میں جوہانسبرگ میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی تھی۔ اب ایک بار پھر دونوں رہنما آمنے سامنے ملاقات کر کے دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات پر غور کریں گے۔
اپنے بیان میں البانیز نے کہا، “مجھے اپنے دوست وزیر اعظم نریندر مودی کا آسٹریلیا میں ہمارے سالانہ لیڈرز سمٹ کے لیے استقبال کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “آسٹریلیا اور بھارت کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکے ہیں، اور ہماری شراکت داری ہند-بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ میں دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا منتظر ہوں۔”
آسٹریلیا کے دورے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی 10 سے 11 جولائی تک وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کی دعوت پر نیوزی لینڈ کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ تقریباً چار دہائیوں کے بعد کسی بھارتی وزیرِ اعظم کا نیوزی لینڈ کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دورۂ نیوزی لینڈ کے دوران وزیر اعظم مودی آکلینڈ میں وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبوں میں گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ ممتاز کاروباری شخصیات اور کھیلوں کی دنیا سے وابستہ افراد سے بھی ملاقات کریں گے۔ اپنے دورے کے دوران وزیرِ اعظم مودی آکلینڈ میں مقیم بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے بھی خطاب کریں گے، جس کے ذریعے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان عوامی روابط اور ثقافتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…