نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز گجرات کے سانند میں سی جی سیمی آؤٹ سورسڈ سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹ (OSAT) سہولت کا افتتاح کیا، جسے بھارت کی سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے آغاز سے ملک کی چِپ سازی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور الیکٹرانک آلات کے لیے درآمدی چِپس پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج کا دن بھارت کے سیمی کنڈکٹر شعبے کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ ان کے مطابق سانند میں قائم سی جی سیمی او سی اے ٹی (OSAT) سہولت ملک میں چِپ مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنائے گی، تکنیکی خود انحصاری کو فروغ دے گی اور عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں بھارت کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا، “پانچ سال پہلے ہم نے عزم کیا تھا کہ بھارت کو سیمی کنڈکٹر ہب بنائیں گے۔ ہم ‘ڈیزائن اِن انڈیا’ اور ‘میک اِن انڈیا’ کے وژن کے ساتھ آگے بڑھے اور آج ملک کے تیسرے سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں بھی چِپ پیکیجنگ کی تجارتی پیداوار کا آغاز ہو رہا ہے۔”انہوں نے یاد دلایا کہ انہیں 2024 میں اسی پلانٹ کا سنگِ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ ان کے مطابق اگست 2025 میں یہاں ٹیسٹنگ چِپس کی تیاری شروع ہوئی تھی اور اب محض ایک سال کے اندر یہ منصوبہ تجارتی پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ سنگِ بنیاد سے لے کر پیداوار تک کا یہ سفر انجینئروں، سائنس دانوں اور صنعت سے وابستہ تمام افراد کی محنت کا نتیجہ ہے۔
مودی نے مزید کہا کہ سی جی سیمی کا یہ پلانٹ صرف ایک صنعتی منصوبہ نہیں بلکہ بھارت، جاپان اور تھائی لینڈ کے صنعتی شراکت داروں کے درمیان مضبوط تعاون کی علامت بھی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ٹیکنالوجی، اعتماد اور بین الاقوامی شراکت داری کا ایسا نمونہ ہے جو بھارت کی سیمی کنڈکٹر صنعت کو نئی رفتار دے گا اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ مزید مضبوط کرے گا۔
اس سے قبل مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 60 برسوں سے ملک میں سیمی کنڈکٹر صنعت کو فروغ دینے کی کوششیں جاری تھیں، لیکن وزیرِ اعظم مودی کے وژن کے باعث اب یہ خواب حقیقت میں تبدیل ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 28 فروری کو ملک کے پہلے سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں تجارتی پیداوار کا آغاز ہوا، اس کے بعد 31 مارچ کو دوسرا پلانٹ شروع کیا گیا، جبکہ اب 4 جولائی کو تیسرے پلانٹ کا افتتاح عمل میں آیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے تیزی سے 12 سیمی کنڈکٹر منصوبوں کی منظوری دی، جن میں سے تین میں اب تجارتی پیداوار بھی شروع ہو چکی ہے۔اشونی ویشنو نے کہا کہ ان اقدامات کے بعد عالمی سطح پر بھارت کی سیمی کنڈکٹر صلاحیت پر اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور متعدد بین الاقوامی کمپنیاں بھارت کو مستقبل کے ایک اہم سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔حکومت کا ماننا ہے کہ سانند میں قائم یہ نیا پلانٹ ملک کی چِپ سازی کی استعداد میں اضافہ کرے گا، الیکٹرانکس صنعت کے لیے درآمدی چِپس پر انحصار کم کرے گا اور بھارت کو عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مظاہرے کے دوران پولیس پر مار پیٹ کا الزام لگانے والی کیرالہ کی قانون کی…
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…