نئی دہلی: قومی راجدھانی میں منعقدہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے دوسرے دن بھی ملک اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے سرکردہ لیڈر، پالیسی ساز، صنعتکار اور ٹیکنالوجی ماہرین شریک ہوئے۔ سمٹ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بدلتے ہوئے منظرنامے، اس کے عملی اطلاق اور انسانی مہارت کے ساتھ اس کے اشتراک پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مستقبل میں وہی ماڈل کامیاب ہوگا جس میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی بصیرت اور تجربے کو یکجا کیا جائے گا۔ وزارتِ ثقافت میں ایڈیشنل سکریٹری اور مالیاتی مشیر رنجنا چوپڑا نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ یہ سمٹ مختلف وزارتوں، اسٹارٹ اپس اور نجی کمپنیوں کو اپنے اے آئی اختراعات پیش کرنے کا مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ قبائلی امور نے حال ہی میں ایک ڈیجیٹل حل تیار کیا ہے جس کے ذریعے مواد کا چار قبائلی زبانوں میں ترجمہ ممکن بنایا گیا ہے۔ اس اقدام کو سمٹ میں مثبت ردعمل ملا اور متعدد ایجنسیوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
رنجنا چوپڑا نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کے لیے بھی نہایت سودمند ہے کیونکہ یہاں وہ روزمرہ مسائل کے لیے تیار کردہ اے آئی حل کو براہِ راست دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سمٹ نوجوانوں کو نہ صرف تحریک فراہم کرتا ہے بلکہ نیٹ ورکنگ اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ سی او اے آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ڈاکٹر ایس پی کوچر نے ٹیلی کام شعبے میں اے آئی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مکمل انحصار مضبوط ٹیلی کام نیٹ ورک پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا سینٹر میں معلومات محفوظ کی جاتی ہیں، تاہم اس ڈیٹا کی ترسیل اور وصولی ٹیلی کام نیٹ ورک کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ فائیو جی نیٹ ورک سے ابھی مکمل تجارتی فائدہ حاصل نہیں ہوا، لیکن اے آئی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو فائیو جی کے لیے وسیع مواقع پیدا کرے گی۔
ڈاکٹر کوچر نے کہا کہ سمٹ میں پیش کی جانے والی اے آئی ایپلیکیشنز عام شہریوں کے لیے مفید ہیں اور ان کے استعمال میں اضافے سے ٹیلی کام نیٹ ورک کو بھی فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں میں فائیو جی نیٹ ورک پر اے آئی پر مبنی خدمات کے باعث نیٹ ورک مزید مؤثر اور تیز رفتار ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ دور دراز دیہی علاقوں تک مضبوط کنیکٹیویٹی پہنچانا ناگزیر ہے کیونکہ بغیر نیٹ ورک کے اے آئی اپنی صلاحیت نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فائبرائزیشن اور رائٹ آف وے جیسی سہولیات کو ہر گاؤں تک پہنچانا حکومت اور صنعت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب ملک کے ہر حصے میں مضبوط نیٹ ورک دستیاب ہوگا تو اے آئی پر مبنی خدمات بھی وہاں تک پہنچیں گی اور لوگ اپنے گھروں سے کام کرنے کے قابل ہوں گے، جیسا کہ بڑے شہروں میں ممکن ہے۔
سمٹ کے دوران آئی ایم ای آر آئی ٹی کی سی ای او اور بانی رادھا راماسوامی باسو نے کہا کہ اے آئی کا اگلا مرحلہ بڑے ماڈلز کی تیاری سے آگے بڑھ کر انہیں عملی استعمال کے قابل بنانا ہے۔ ان کے مطابق بڑی کمپنیوں نے طاقتور اے آئی ماڈلز تیار کر لیے ہیں، لیکن اصل چیلنج انسانی مہارت کو ان ماڈلز کے ساتھ جوڑنا ہے۔ انہوں نے اسے ’ہیومن اِن دی لوپ‘ یا ’ایکسپرٹ اِن دی لوپ‘ قرار دیا جو مستقبل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ رادھا باسو نے کہا کہ اب عمومی اے آئی ماڈلز سے آگے بڑھ کر بیمہ، صحت اور زراعت جیسے مخصوص شعبوں کے لیے ڈومین پر مبنی حل تیار کیے جائیں گے۔ خاص طور پر زرعی شعبے میں چھوٹے لینگویج ماڈلز اور وژن ماڈلز کسانوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی گزشتہ آٹھ برسوں سے اے آئی کے میدان میں سرگرم ہے اور بھارت میں تقریباً دس ہزار روزگار کے مواقع پیدا کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ریاضی دانوں، بیمہ ماہرین، امراضِ قلب کے ڈاکٹروں اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی مہارت اے آئی ماڈلز کو زیادہ مؤثر بناتی ہے، کیونکہ کسی بھی شعبے کے درست حل کے لیے متعلقہ ماہرین کی شمولیت ناگزیر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری لنکا کی ناقص بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ…
سندھ کے پانی کی تقسیم پر پاکستان کی فوج اور پنجاب کو ذمہ دار قرار…
اسٹار لنک نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلانے کے لیے اسپیس ایکس کی مسلسل سیٹلائٹ…
باجھانگ ضلع میں 42 سالہ خاتون بملہ دیوی کا بیمار کتے کو زندہ پل سے…
سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…