کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: بجٹ سیشن 2026 میں صدرجمہوریہ دروپدی مرموکی تقریرپرراجیہ سبھا میں شکریہ کی تحریک کے دوران کانگریس لیڈرعمران پرتاپ گڑھی نے ایوان بالا کے سامنے ملک کے تازہ حالات رکھ کربرسراقتدارطبقہ کوکٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ انھوں نے اپنی تقریرکا آغازکچھ اس الفاظ میں کیا ’’جب پارلیمنٹ کے گلیاروں میں حکومت کی تعریف کرتی ہوئیں صدر جمہوریہ کی آوازگونج رہی تھی، توہسدیوکے جنگلوں میں قبائلیوں کوزندگی دینے والے درختوں پرکلہاڑی کی آوازمیرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ایک طرف صدرجمہوریہ کی تقریر پر وزیراعظم میزتھپتھپا رہے تھے۔ تودوسری طرف اتراکھنڈ کی انکیتا بھنڈاری کوانصاف دلانے کے لیے آوازمدھم ہو رہی تھی اورپوچھ رہی تھی کہ وہ کون وی آئی پی ہے، جس کے لیے انکیتا بھنڈاری کا قتل کر دیا گیا۔‘‘
انصاف پسند لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہونے پراٹھایا سوال
کانگریس ایم پی نے راجیہ سبھا میں اپنی آوازمضبوطی کے ساتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں صدرجمہوریہ سماجی انصاف کی بات کررہی تھیں، اُدھراتراکھنڈ کے کوٹ دوارمیں نفرتی لوگوں سے بزرگ کوبچانے والے دیپک کے خلاف پولیس سنگین دفعات میں مقدمہ درج کررہی تھی۔ بی جے پی کے ’نئے ہندوستان‘ میں فسادیوں کے خلاف ایف آئی آرنہیں ہوتی، بلکہ امن ومحبت کی بات کرنے والوں پرایف آئی آرہوتی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ’’آسام کے وزیراعلیٰ برسرعام آئینی پروٹوکول توڑکرکہتے ہیں۔ مسلمانوں کواتنا ٹارچرکروکہ ریاست چھوڑنے پرمجبورہو جائیں۔‘‘
گھرمیں نمازپڑھنے والوں پرکیوں درج ہو رہا ہے مقدمہ: عمران پرتاپ گڑھی
عمران پرتاپ گڑھی نے بی جے پی کی حکومت میں اقلیتی طبقہ کومستقل نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موجودہ حالات کو فکرانگیزقراردیا۔ انھوں نے کہا کہ بریلی کے خالی گھرمیں نمازپڑھنے والوں پرپولیس مقدمہ درج کرتی ہے، کرسمس کی تیاری کرتے ہوئے عیسائیوں کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے، مدھیہ پردیش کے بیتول میں محمد نعیم کے بنوائے اسکول پربلڈوزرچلا دیا جاتا ہے۔ بنارس کی دال منڈی میں عدالت کا اسٹے ہونے کے بعد بھی سینکڑوں دکانوں کوتوڑدیا جاتا ہے، جموں وکشمیرمیں نیٹ کوالیفائی کرنے والے 42 مسلم بچوں کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہوجاتا ہے تواس کی منظوری رَد کروا کرجشن منایا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی لیڈران کے ذریعہ ملک کی معززشخصیات کوگالیاں دی جا رہی ہیں، جوانتہائی تشویش کی بات ہے۔
راجیہ سبھا میں ہوا ہنگامہ
راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ’’جونسل اپنے بزرگوں کوگالی دیتی ہے، قدرت اس کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔ بی جے پی کے لوگ نہروجی، اندرا جی کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں، لیکن یہ کبھی نہروجی کوچھوٹا نہیں کرپائیں گے۔ وہ یاد رکھیں، نہروجی کا نام ’آئنسٹائن‘ کے ساتھ لیا جاتا ہے اورنریندرمودی کا نام ’ایپسٹین‘ کے ساتھ۔‘‘ عمران پرتاپ گڑھی جب اپنی باتیں راجیہ سبھا میں رکھ رہے تھے توکچھ مواقع برسراقتدارپارٹی کے لیڈران نے ہنگامہ بھی کیا، لیکن کانگریس رکن پارلیمنٹ اپنی بات کہتے چلے گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…
پاکستانی وفد کی مداخلت کے جواب میں آجاکیہ نے کہا کہ ان کی جانب سے…
امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…