رکن پارلیمنٹ پپو یادو کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
95 ما ضبطی پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپویادوکوپٹنہ پولیس نے جمعہ (06 فروری، 2026 کی دیر رات 31 سال پرانے معاملے میں گرفتارکرلیا۔ انہیں گرفتار کرنے کے لئے پولیس پہنچی تھی، لیکن وہ جانے کوتیارنہیں تھے۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکارپہنچ گئے۔ خود ایس پی بھانو پرتاپ پہنچے۔ اس کے بعد پپویادو کو پولیس اٹھاکر لے گئی۔
شروعاتی جانکاری کے مطابق، دو دن پہلے ہی پٹنہ کی ایم پی- ایم پی ایل اے کورٹ نے رکن پارلیمنٹ پپویادو سمیت تین افراد کے خلاف قرقی- ضبطی کا حکم دیا تھا۔ دھوکہ دہی کرکے مکان کرایے پرلینے کا الزام ہے۔ یہ پورا معاملہ 1995 کا ہے۔ پٹنہ کے گردنی باغ تھانے میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔
رات میں نہیں جانے کی ضد کررہے تھے پپویادو
رکن پارلیمنٹ پپویادو کو بھلے ہی گرفتارکرکے پولیس اپنے ساتھ لے گئی، لیکن اس کے لئے پٹنہ واقع ان کی رہائش گاہ پرگھنٹوں ہنگامہ ہوتا رہا۔ پولیس اورپپویادو میں بحث ہوتی رہی۔ پپویادو اپنے وکیل کو بلانے کی بات کرتے رہے۔ جب پولیس اہلکاروں کو لگا کہ پپویادو کو ایسے لے جانا آسان نہیں ہے تو بڑی تعداد میں پولیس فورس بلائی گئی۔ سینئرافسران بھی پہنچے۔ یہ سب کرتے کرتے رات کے تقریباً 12 بج گئے۔ اس کے بعد پولیس پپویادو کو اپنے ساتھ لے گئی۔
’مجھے مارنے کی سازش ہے‘، پپو یادو کا بڑا الزام
آپ کو بتا دیں کہ پولیس کے پہنچتے ہی پپویادوبرہم ہوگئے۔ انہوں نے اپنی میڈیا ٹیم کے ذریعے ایک ویڈیو جاری کیا اوربہارحکومت پرسخت حملے کئے۔ رکنِ پارلیمنٹ نے پولیس کی نیت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا: یہ مجھے مارنے کی سازش ہے۔ آخر پولیس بغیروارنٹ کے آدھی رات کو میرے گھرکیسے آسکتی ہے؟ جب عدالت کا حکم قرقی کا ہے تو پھروہ مجھے لے جانے کی بات کیوں کررہے ہیں؟ ”پپو یادونے واضح طورپرکہا کہ وہ رات کے اندھیرے میں پولیس کے ساتھ کہیں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا ”میں نے اپنے وکیل کوبلا لیا ہے۔ پولیس مجھے صبح عدالت لے جائے، عدالت جہاں کہے گی، میں وہاں جانے کوتیارہوں۔ مجھے یہاں کے ایس پی پرذرا بھی اعتماد نہیں ہے۔“
بدلے کی سیاست یا قانونی کارروائی؟
رکن پارلیمنٹ پپویادوکا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جہان آباد کی ایک بچی کے حق میں آوازاٹھائی اورکچھ بااثرلوگوں کے خلاف محاذ کھولا، اسی وجہ سے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کو انتقامی سیاست قراردیا اوراپنی جان کوخطرہ بتایا۔ پپو یادو نے کورونا کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی ان کے خلاف اسی طرح کی سازش رچی گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بس کالیکا انگلش بورڈنگ اسکول کی تھی۔کاسکی ضلع پولیس دفتر کے سربراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین…
بسپا سربراہ نے کانشی رام کے مہاپری نروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا، اتر…
اداکارہ نے نانا پاٹیکر پر لگائے گئے اپنے الزامات پر قائم رہنے کی بات کہی،…
مدورانتکم اور دھاراپورم دونوں اسمبلی سیٹوں پر ٹی وی کے امیدوار آگے، مئی میں حکومت…
پونے کے فارم ہاؤس میں اداکار کی آخری رسومات ادا کی گئیں، ترنگے میں لپٹے…
راہل گاندھی نے ایلون مسک کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا تھا، ’’ایلون، بھارت…