شوہر اور بیوی کے تعلقات میں طلاق کی صورت میں شوہر کی طرف سے اسے ماہانہ خرچہ دیا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان سمیت کئی ممالک میں گھریلو خواتین کے لیے ایک قانون ہے۔ ایسے قوانین ان خواتین اور ان کے بچوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جو کسی بھی وجہ سے اپنے رشتوں سے الگ ہو جاتی ہیں۔ لیکن کئی بار لوگوں کو ان قوانین کا فائدہ اٹھاتے دیکھا گیا ہے۔ حال ہی میں ایک ایسا ہی معاملہ سامنے آیا، جس کی قانونی کارروائی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جوکہ کرناٹک ہائی کورٹ کی ہے۔ویڈیو میں عدالت کے اندر طلاق کا کیس چل رہا ہے اور خاتون کے وکیل نے خاتون کی جانب سے ماہانہ 6 لاکھ 16 ہزار روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کو جوتے، کپڑوں، چوڑیوں کے لیے ہر ماہ 15 ہزار روپے، کھانے کے لیے 60 ہزار روپے اور فزیو تھراپی اور دیگر طبی اخراجات کے لیے 4 سے 5 لاکھ روپے درکار ہوں گے۔
اس پر خاتون جج نے مناسب جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی خاتون کو ایک ماہ میں 6 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کرنا ہے تو اسےکمانے بھی آنا چاہیے۔ آپ عدالت کو بتا رہے ہیں کہ عورت کو ہر ماہ 6,16,300 روپے کی ضرورت ہوگی۔ نہ بچے اور نہ کوئی دوسری ذمہ داریاں۔ اپنے اوپر اتنا پیسہ کون خرچ کرتا ہے؟ اگر آپ کے اخراجات اتنے ہیں تو اپنے شوہر سے مت مانگو، خود کماؤ۔جج نے کہاکہ بیوی سے جھگڑا ہو جائے تو کیا شوہر کو ایسی سزا ملے گی؟ قانون یہ نہیں کہتا۔ یہ استحصال ہے۔
جج نے وکیل سے مزید کہا- آپ معقول رقم کا مطالبہ لے کر آئیں، ورنہ دلیل مسترد کر دی جائے گی۔ یہ سماعت 20 اگست 2024 کو ہوئی۔ اس سے قبل، 30 ستمبر 2023 کو، ایڈیشنل پرنسپل جسٹس، فیملی کورٹ، بنگلورو نے خاتون کے شوہر کو حکم دیا تھا کہ وہ اسے 50،000 روپے ماہانہ مینٹیننس الاؤنس ادا کرے۔ اس پر خاتون نے ہائی کورٹ سے رجوع کر کے عبوری دیکھ بھال کی رقم بڑھانے کی درخواست کی تھی۔جس پر جج نے کہا کہ اگر ایک خاتون اپنے اوپر لاکھوں روپئے خرچ کررہی ہے تو اسے خود کمانا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ فروری 1993 میں ان کی گرو دیو سے ملاقات…
نئی دہلی : اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر اور کرناٹک میں قانون ساز کونسل کی 28…
جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کے آئی پی او میں بولی لگانے کی آخری تاریخ 23…
فضائی مظاہرے میں شامل ’پرچنڈ فارمیشن‘ نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت، تیاری اور درست…
شلوک کی تشریح کے مطابق، جو لوگ اس عارضی دنیا اور جسمانی شناخت کو ہی…
ان پوسٹروں میں راکٹ سائنس دان چیان شوسن، جوہری طبیعیات کے ماہر ڈینگ جیاشیان، زرعی…