قومی

Baloch leader wrote an emotional letter to PM Modi: اگر آپریشن سندور مزید ایک ہفتہ چل جاتا تو ہم آزاد ہو جاتے، بلوچ رہنما میریار نے وزیراعظم مودی کو لکھا جذباتی خط

بلوچستان میں انسانی حقوق کے کارکن اور صحافی میر یار بلوچ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خط میں بلوچ لیڈر نے 1998 میں پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں کی گئی جوہری تجربات کو نسل کشی کی شروعات بتایا اور دنیا سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو ضبط کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ ہندوستان کو بلوچستان کی آزادی کی لڑائی میں کھل کر ساتھ دینی چاہیے۔

جوہری تجربوں کی وجہ سے زمینیں بنجر ہو گئیں

وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط کی شروعات میں میر یار بلوچ نے 28 مئی 1998 کو پاکستان کی جانب سے بلوچستان کے چگئی میں کی گئی جوہری تجربات سے کی۔ انہوں نے لکھا کہ پاکستانی فوج نے نواز شریف حکومت کی ملی بھگت سے سرزمین بلوچ کو برباد کر دیا۔ ان جوہری تجربات کی دھماکوں کی وجہ سے آج بھی چگئی اور راس کوہ کی پہاڑیوں میں دھماکوں کی بو محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ ان جوہری تجربوں کی وجہ سے زمینیں بنجر ہو گئیں، چوپائے مارے گئے اور بچے اب تک معذور پیدا ہو رہے ہیں۔

پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی دہشت گرد تنظیموں کے بانی

بلوچ لیڈر نے خط میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو سیدھے طور پر دہشت گرد تنظیموں کا بانی قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی ایس آئی ہر ماہ ایک نئی دہشت گرد تنظیم تشکیل دیتا ہے اور انہیں ہندوستان، افغانستان، بلوچستان، یہاں تک کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ بلوچ لیڈر نے خط میں یہ بھی لکھا کہ ’’پاکستان دہشت گرد کی ماں ہے۔ جب تک اس کی جڑیں نہیں اکھاڑی جائیں گی، تب تک دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہوگا۔‘‘

بلوچستان کا سونا، تانبا، گیس، تیل اور یورینیم لوٹا جارہا ہے

یار بلوچ نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ بلوچستان کا سونا، تانبا، گیس، تیل اور یورینیم لوٹ کر اپنی کمزور معیشت چلا رہا ہے اور اسی پیسہ سے دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کر رہا ہے۔ خط میں چین کا بھی ذکر ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ چین نے بلوچستان میں بحری اڈے اور ایشیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ بنا لیا ہے۔ ساتھ ہی چین پاکستانی افواج کی ہر طرح سے حمایت کر رہا ہے۔

لوچستان کے عوام نے ’آپریشن سندور‘ کی کھل کر حمایت کی

بلوچ لیڈر کے مطابق، بلوچستان کے عوام نے ’آپریشن سندور‘ کی کھل کر حمایت کی۔ اگر آپریشن سندور ایک ہفتہ اور چلتا تو آج ہم ہندوستان اور دنیا سے ایک آزاد قوم کے طور پر بات کر رہے ہوتے۔ خط کے اخیر میں انہوں نے وزیر اعظم مودی سے گزارش کی کہ ہندوستان بلوچستان کے ساتھ سرکاری تعلقات استوار کرے اور دہلی میں بلوچستان کا سفارت خانہ کھولے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…

5 minutes ago

Rajesh Mangal Ayodhya Visit: بی جے پی کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل کل پہنچیں گے ایودھیا، رام للا کے کریں گے درشن

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل منگل کے روز…

11 minutes ago

Bishnoi Gang Shooters Arrested: جودھپور میں بشنوئی گینگ کے دو انعامی شوٹر گرفتار، دونوں پر تھا 5-5 لاکھ روپے کا انعام

پولیس نے دونوں کو جودھپور کے کیلاش نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے…

40 minutes ago

Saudi Arabia-Houthi Crisis: سعودی کے تمام مددگار کیوں ہو گئے بے کار؟ پاکستان اور ترکیہ کے انکار نے ایم بی ایس کی بڑھائی مشکل

یمن میں حوثی باغیوں کے بڑھتے حملوں سے پریشان سعودی عرب نے شام، ترکیہ اور…

41 minutes ago