نئی دہلی: سوشل میڈیا کی دنیا میں اس وقت وزیراعظم نریندر مودی کا نام سر فہرست ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر 100 ملین (10 کروڑ) فالوورز کا تاریخی ہندسہ عبور کر لیا ہے اور اس سطح تک پہنچنے والے دنیا کے پہلے سیاسی رہنما بن گئے ہیں۔ اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پر ایک سوال تیزی سے گردش کر رہا ہے: کیا اتنے بڑے پلیٹ فارم سے وزیراعظم کو مالی فائدہ ہوتا ہے؟
کیا وزیراعظم انسٹاگرام سے کماتے ہیں؟
کیا وزیراعظم مودی کو اس سے کوئی مالی فائدہ ہوتا ہے؟ سادہ جواب ہے نہیں۔ اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی کے فالوورز کی تعداد عالمی سطح کے مشہور کھلاڑیوں اور شخصیات کے برابر یا ان کے قریب ہے، لیکن وہ انسٹاگرام سے ایک روپیہ بھی نہیں کماتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ آئینی ضابطے ہیں۔ بھارت کا وزیراعظم ایک آئینی عہدہ ہے اور قوانین کے مطابق اس منصب پر فائز شخص کسی نجی کمپنی کی تشہیر یا اشتہاری مہم کے ذریعے ذاتی آمدنی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ معاملہ ’’آفس آف پرافٹ‘‘ (Office of Profit) کے دائرے میں آتا ہے، جو مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اسی لیے وزیرِ اعظم کے اکاؤنٹ پر کبھی کسی پروڈکٹ یا ایپ کی ’’پیڈ کولیبوریشن‘‘ پوسٹ نظر نہیں آتی۔
عام انفلوئنسر کیسے کماتے ہیں؟
انسٹاگرام پر آمدنی کے چند معروف ذرائع ہوتے ہیں:
برانڈ ڈیلز: کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے بدلے بڑی رقم ادا کرتی ہیں۔
ڈیجیٹل گفٹس اور اسٹارز: ریلز یا لائیو سیشن کے دوران مداح براہِ راست رقم بھیج سکتے ہیں۔
سبسکرپشن ماڈل: خصوصی مواد دیکھنے کے لیے ماہانہ فیس لی جاتی ہے۔
وزیراعظم ان میں سے کسی سہولت کا استعمال نہیں کرتے۔ ان کا اکاؤنٹ مکمل طور پر غیر تجارتی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد عوام سے براہِ راست رابطہ اور معلومات کی ترسیل ہے۔
اگر وہ سیاست دان نہ ہوتے تو؟
ڈیجیٹل مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق، اگر کوئی عالمی سطح کا ڈیجیٹل کریئیٹر 10 کروڑ فالوورز رکھتا ہو تو وہ ایک اسپانسرڈ پوسٹ کے لیے تقریباً 5 سے 10 کروڑ روپے تک معاوضہ وصول کر سکتا ہے۔ ایک انسٹاگرام اسٹوری بھی کسی برانڈ کی مارکیٹنگ حکمت عملی بدل سکتی ہے۔ لیکن وزیراعظم نریندر مودی کے معاملے میں یہ سوال محض نظریاتی ہے، کیونکہ وہ ایک آئینی عہدے پر فائز ہیں اور کسی قسم کی ذاتی تشہیری آمدنی حاصل نہیں کر سکتے۔
انسٹاگرام پر ان کی مقبولیت نوجوانوں کے ساتھ براہ راست رابطے کو مضبوط بناتی ہے، جو مستقبل کے ووٹروں تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اتنی بڑی ڈیجیٹل موجودگی بھارت کی ’’سافٹ پاور‘‘ کو تقویت دیتی ہے اور عالمی سطح پر ملک کی شبیہ مضبوط بناتی ہے۔ یوں 10 کروڑ فالوورز کا یہ سنگ میل مالی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ کے اعتبار سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…