مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد بڑا سیاسی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت بننے کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے داخلی اندازوں کے مطابق پہلے مرحلے کی 152 نشستوں میں سے بی جے پی 110 سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے۔ کولکاتا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے بتایا کہ یہ دعویٰ پارٹی کی ریاستی اکائی کے تفصیلی جائزے اور زمینی رپورٹوں پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی نہ صرف پہلے مرحلے میں مضبوط پوزیشن میں ہے بلکہ دوسرے مرحلے کی تیاریوں کے ساتھ مجموعی طور پر حکومت سازی کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بار ووٹنگ میں عوام کی غیر معمولی شرکت دیکھنے کو ملی ہے، جو جمہوریت پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ ووٹنگ فیصد نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بنگال کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے ترقی اور بہتر مستقبل کے لیے ووٹ دیا ہے۔ وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر بھی بھرپور اعتماد ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی حصے پہلے ہی مودی حکومت کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور بنگال کے عوام بھی اسی ماڈل کو اپنانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں بی جے پی کے حق میں بڑھتا ہوا رجحان واضح طور پر نظر آ رہا ہے، جو انتخابی نتائج میں بھی جھلکے گا۔
امت شاہ نے اس موقع پر ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بنگال میں خواتین کی سلامتی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت اس معاملے میں ناکام رہی ہے اور خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر بی جے پی کو اقتدار ملا تو خواتین کو ہر وقت محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے ایسے امیدواروں کو بھی میدان میں اتارا ہے جو خود تشدد کا شکار رہے ہیں، تاکہ وہ اسمبلی میں پہنچ کر مؤثر قانون سازی کر سکیں اور متاثرین کی آواز بن سکیں۔
پریس کانفرنس کے دوران امت شاہ نے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل عوام سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف و خطر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے آزاد اور شفاف انتخابات کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں، اس لیے ووٹرز کو کسی دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ ریاست کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر ووٹ دیں۔ ان کے مطابق بنگال ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور یہ انتخابات ریاست کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق امت شاہ کا یہ دعویٰ انتخابی ماحول کو مزید گرم کر سکتا ہے، جبکہ اصل صورتحال کا اندازہ نتائج کے اعلان کے بعد ہی ہو سکے گا۔ تاہم، بی جے پی کی جانب سے پیش کیا گیا یہ پراعتماد موقف آنے والے مرحلوں میں انتخابی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات کے سورت میں کام کرنے والے اتر پردیش اور بہار کے مزدور مبینہ استحصال…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کا مارچ، راہل گاندھی سمیت کئی…
دونوں ماہرین کو ’میکرو اکنامک استحکام کی مائیکرو اکنامک بنیادوں‘ پر ان کے کام کے…
رام لیلا میدان، براری میدان اور سی بی ڈی میدان کو احتجاجی مقامات کے طور…
راہل گاندھی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کے دفتر نے ان کے…
ملازمین کے مستقبل فنڈ (ای پی ایف) اور ایمپلائیز پنشن اسکیم (ای پی ایس) دونوں…