ہریانہ کے حصار میں واقع ایک گاؤں میں بارہویں جماعت کے دو طالب علموں نے جمعرات کو ایک پرائیویٹ اسکول کے ڈائریکٹر اور پرنسپل کو مبینہ طور پر صرف اس لیے چاقو مار کر ہلاک کر دیا، کیوں کہ وہ انھیں بال کٹوانے اور اسکول کے نظم و ضبط پر عمل کرنے کے لیے کہہ رہا تھا۔ یہ واقعہ حصار کے باس گاؤں کے کرتار میموریل سینئر سیکنڈری اسکول میں پیش آیا۔
بال نہ کٹوانے پر سرزنش کی وجہ سے تھے ناراض
اطلاع کے مطابق اسکول کے ڈائریکٹر اور پرنسپل 50 سالہ جگبیر سنگھ پنّو پر مبینہ طور پر اسکول کے احاطے میں حملہ کیا گیا۔ ان پر چاقو سے کئی مرتبہ وار کیا گیا۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق طالب علموں کو مبینہ طور پر اس بات پر غصہ آتا تھا کہ وہ انھیں بال نہ کٹوانے اور اسکول کے قوانین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اکثر ڈانٹا کرتے تھے۔
پرنسپل جگبیر سنگھ نے مبینہ طور پر ان نوجوانوں کو متعدد بار تنبیہ کی تھی اور انھیں سدھرنے کی تلقین کی تھی۔ لیکن ان کی اس تلقین اور سرزنش کے نتیجے میں ان طالب علموں نے سدھرنے کے بجائے انھیں چاقوؤں سے گود ڈالا اور حملہ کرنے کے بعد دونوں طالب علم موقع سے فرار ہو گئے۔ جگبیر سنگھ کو اسکول کا عملہ قریبی نجی اسپتال لے گیا، جہاں سے انھیں حصار کے دوسرے اسپتال منتقل کر دیا گیا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
پولیس نے شروع کی تفتیش
اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور تفتیش شروع کر دی۔ ذرائع کے مطابق اس میں ملوث دونوں طلباء کی شناخت کر لی گئی ہے۔ پولیس اسکول کے عملے اور دیگر طلباء سے پوچھ گچھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس واقعے کے بعد اسکول میں پڑھنے والے دیگر طلبا کے والدین اور مقامی گاؤں والے اسکول میں جمع ہوگئے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…