منگل کے روزصدرڈونالڈ ٹرمپ اورنیتن یاہوکی دودن میں دوسری ملاقات ہوئی، جس میں غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی اسٹیوویٹکوف نے کہا ہے کہ اسرائیل اورحماس جنگ بندی کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے کہ جب جنگ کو شروع ہوئے 21 ماہ ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان اختلافی نکات کی تعداد چارسے کم ہوکرایک رہ گئی ہے اوروہ پرامید ہیں کہ آئندہ ہفتے کے آغازتک ایک عبوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ امریکی ایلچی نے صحافیوں کوبتایا کہ متوقع معاہدے میں 60 دن کی جنگ بندی شامل ہوگی، اس کے علاوہ 10 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 9 ہلاک شدگان کی باقیات کی واپسی بھی اس میں شامل ہوگی۔
اکتوبر 2023 سے جاری ہے تنازعہ
یہ تنازعہ اکتوبر 2023 میں اس وقت شروع ہوا جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 50 افراد اب بھی غزہ میں قید ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا گمان ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ پرکی گئی جنگی کارروائیوں میں اب تک وزارت صحت کے مطابق 57 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ غزہ کے وسیع علاقے تباہ ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی اکثریتی آبادی بے گھرہوچکی ہے، اورماہرین کا کہنا ہے کہ مئی میں تقریباً پانچ لاکھ افراد قحط کے خطرے سے دوچارتھے۔