قومی

Reforms in family pension specially for women: حکومت نے فیملی پنشن میں کیں کئی اہم اصلاحات، بیوہ، مطلقہ اور اہم مسائل سے دوچار خواتین کی بہتری پر ہے خصوصی توجہ

محکمہ ڈی او پی ٹی کے منسٹر انچارج اور مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے خواتین کے لیے صنفی مساوات اور مالی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کئی تبدیلیاں اور اسکیمیں نافذ کی ہیں۔ محکمہ ٹریننگ اینڈ پرسونل (DoPT) نے اس سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہیں اور سرکاری ملازمت میں اور کے اس کے علاوہ بھی خواتین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کئی زمینی سطح کی پالیساں بنائی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری حکومت نے اس سلسلے میں اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم اقدامات یہ ہیں:

طلاق یافتہ اور اپنے شوہر سے الگ ہونے والی بیٹیوں کے لیے مالی تحفظ

اس سے قبل طلاق یافتہ یا شوہر سے الگ ہونے والی بیٹی کو اپنے فوت شدہ والدین کی جانب سے فیملی پنشن حاصل کرنے کے لیے طویل قانونی لڑائیوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ تاہم نئے ضابطے کے تحت اگر پنشنر کی زندگی کے دوران طلاق کی کارروائی شروع ہو جاتی ہے، تو بیٹی اب عدالتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر اپنی مکمل پنشن کی ادائیگی کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ یہ اہم اصلاحات یقینی بناتی ہیں کہ ضرورت مند خواتین کو طریقہ کار میں تاخیر کی وجہ سے مالی طور پر کمزور نہیں چھوڑا جائے۔

بے اولاد بیواؤں کی مدد

حکومت نے بے اولاد بیواؤں کی مدد کے لیے بھی ایک مثبت قدم اٹھایا ہے۔ دوبارہ شادی کرنے والی عورت اپنے فوت شدہ شوہر کی پنشن اس وقت تک وصول کرنا جاری رکھ سکتی ہے جب تک کہ اس کی آزادانہ آمدنی پنشن کی کم از کم حد سے کم ہو۔ یہ ضابطہ بیوہ کے مالی استحکام کو نقصان پہنچائے بغیر زندگی کی تعمیر نو کے حق کو تسلیم کرتا ہے، جو خواتین کی معاشی آزادی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

گھریلو مشکلات کا سامنا کرنے والی خواتین

پریشان کن شادیوں میں خواتین کو درپیش چیلنجوں کو سمجھتے ہوئے حکومت نے خواتین پنشنرز کو اجازت دی ہے اگر انھوں نے طلاق کی کارروائی شروع کر دی ہے یا جہیز پر پابندی کے قانون کے تحت اپنے شوہر پر مقدمہ کیا ہے تو وہ اپنے بچوں کو اپنے شوہر کے خاندانی پنشن کے مستفید کے طور پر نامزد کریں۔

خواتین ملازمین کو بچوں کی نگہداشت کے لیے چھٹی

پنشن میں اصلاحات کے علاوہ DoPT نے خواتین سرکاری ملازمین کی مدد کے لیے کام کی جگہ کچھ ترقی پسند قوانین کو لاگو کیا ہے۔ بہت سی خواتین کو درپیش دوہرے فرائض کو تسلیم کرتے ہوئے چائلڈ کیئر لیو (CCL) کی پالیسیوں کو مزید لچک دار بنایا گیا ہے۔ اکیلی مائیں اب مرحلہ وار دو سال تک کی چھٹی لے سکتی ہیں۔ مزید برآں ترمیم شدہ قوانین ماؤں کو چھٹی کی مدت کے دوران اپنے بچوں کے ساتھ بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

خواتین ملازمین کے لیے توسیع شدہ زچگی کے فوائد

زچگی کے فوائد کو بھی اسقاط حمل یا مردہ پیدائش کے معاملات کو پورا کرنے کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ وہ خواتین جو اس طرح کے افسوسناک حالات کا سامنا کرتی ہیں اب وہ تنخواہ والی چھٹی اور ضروری مدد کی حقدار ہیں، تاکہ اس صورت حال سے ابھرتے ہوئے ان کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

India vs Afghanistan T20: بھارت-افغانستان سیریز کے دوران 19 افراد گرفتار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…

3 minutes ago

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

30 minutes ago

Travis Head: ٹریوس ہیڈ کی طوفانی سنچری، آسٹریلیا کا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور

زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…

48 minutes ago

20th Rozgar Mela: روزگار میلے میں وزیر اعظم نریندر مودی 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو دیں گے تقرری نامے

روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…

1 hour ago

Provident Fund Organisation: ای پی ایف او کی تنخواہ کی حد بڑھنے سے ملازمین پر کیا اثر پڑے گا،کیوں ہو رہی ہے تنقید؟

ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…

1 hour ago