نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے پیش نظر حکومت ہند نے 25 مارچ کو شام 5 بجے ایک اہم آل پارٹی میٹنگ طلب کی ہے، جس میں ملک کی سلامتی، توانائی کی ضروریات اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب خطے میں جاری جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ملک کی دفاعی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس میٹنگ میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان سمیت فوج کی تینوں شاخوں کے سربراہان اور دفاعی تحقیقاتی ادارے کے اعلیٰ عہدیداران شریک ہوئے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر بھارت کو ہر ممکن چیلنج کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
عالمی تجارت اور آبنائے ہرمز کی اہمیت
مغربی ایشیا میں کشیدگی کا سب سے بڑا اثر عالمی تجارتی راستوں پر پڑ رہا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز پر، جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے حاصل کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بحران ملک کے لیے خاصی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹیں عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر بھارتی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
وزیراعظم کی تشویش اور اپوزیشن کا ردعمل
وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اس صورتحال کو ’’تشویشناک‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ نہ صرف عالمی معیشت بلکہ انسانی زندگیوں پر بھی سنگین اثرات ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق، بھارت کے تجارتی تعلقات اور توانائی کی فراہمی اس خطے پر کافی حد تک منحصر ہیں، اس لیے حکومت اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں دیا گیا بیان زیادہ تر خود تعریف اور سیاسی بیانیہ پر مبنی تھا۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے مزید واضح حکمت عملی پیش کرنی چاہیے۔
عالمی تناظر اور اثرات
یہ بحران 28 فروری کو شروع ہونے والے واقعات کے بعد شدت اختیار کر گیا، جب امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران نے جوابی حملے کیے۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں عدم استحکام بڑھا اور عالمی توانائی کی سپلائی چین متاثر ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو نہ صرف تیل کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے طلب کی گئی آل پارٹی میٹنگ کو اس تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں مل کر قومی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی کوشش کریں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…