نئی دہلی: آن لائن فوڈ ڈیلیوری خدمات استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک اور مہنگی خبر سامنے آئی ہے۔ فوڈ ڈیلیوری کمپنی سویگی نے اپنی پلیٹ فارم فیس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد اب ہر آرڈر پر صارفین کو پہلے کے مقابلے زیادہ رقم ادا کرنی ہوگی۔ سویگی کی جانب سے پلیٹ فارم فیس کو تقریباً 17 فیصد بڑھا دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ فیس 14.99 روپے سے بڑھ کر 17.58 روپے (جی ایس ٹی سمیت) فی آرڈر ہو گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس میں تقریباً 2.59 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ براہ راست صارفین کے بل پر نظر آئے گا، جس سے مجموعی آرڈر کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔
فیس اضافے پر کمپنی کا موقف
سویگی کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم فیس میں اضافہ اس کے آپریشنز اور مینٹیننس اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق بڑھتے ہوئے تکنیکی اخراجات، لاجسٹکس اور سروس کو بہتر بنانے کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سویگی نے فیس میں اضافہ کیا ہو۔ اس سے قبل اگست 2025 میں بھی کمپنی نے تقریباً 2 روپے کا اضافہ کیا تھا۔ سویگی سے قبل زوماٹو نے بھی اپنی پلیٹ فارم فیس میں اضافہ کیا تھا۔ زوماٹو نے تقریباً 19.2 فیصد اضافہ کرتے ہوئے فیس کو 12.5 روپے سے بڑھا کر 14.90 روپے (جی ایس ٹی سے پہلے) کر دیا تھا، جو ٹیکس سمیت تقریباً 17.58 روپے بنتی ہے۔ یوں دونوں بڑی کمپنیوں کی جانب سے فیس میں اضافہ صارفین کے لیے ایک مشترکہ رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ریستورانوں کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔ اس کا اثر بالآخر صارفین تک منتقل ہو رہا ہے۔ فوڈ ڈیلیوری سروسز پر انحصار کرنے والے شہری صارفین کے لیے یہ ایک اضافی مالی بوجھ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو روزمرہ کی بنیاد پر آن لائن کھانا آرڈر کرتے ہیں۔
شیئر بازار میں ملا جلا رجحان
کاروباری لحاظ سے دیکھا جائے تو سوگی کے شیئرز میں معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ دوپہر کے وقت کمپنی کے شیئرز تقریباً 2.55 فیصد اضافے کے ساتھ 279.55 روپے پر ٹریڈ کر رہے تھے۔ تاہم گزشتہ ایک ہفتے اور ایک ماہ کے دوران شیئرز میں گراوٹ دیکھی گئی ہے، جبکہ چھ ماہ میں کمپنی کے شیئرز میں 36 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ پلیٹ فارم فیس میں مسلسل اضافے سے صارفین کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ممکن ہے کہ کچھ صارفین آن لائن آرڈر کم کر دیں یا متبادل ذرائع اختیار کریں۔ موجودہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے وقت میں فوڈ ڈیلیوری سروسز مزید مہنگی ہو سکتی ہیں، جس سے صارفین اور کمپنیوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…