قومی

Gautam Adani, Chairman of the Adani Group: گوتم اڈانی نے اڈانی بندرگاہوں کے لیے 2030 تک 1 بلین ٹن کارگو کو سنبھالنے کا ہدف کیا مقرر

نئی دہلی :گوتم اڈانی نے جمعہ کو اڈانی پورٹس اینڈ ایس ای زیڈ (اے پی ایس ای زیڈ) کے لیے 2030 تک ایک ارب ٹن کارگو سنبھالنے کا بلند ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان کمپنی کی جانب سے 50 کروڑ ٹن کارگو ہینڈل کرنے کی تاریخی کامیابی کے جشن کے موقع پر کیا گیا۔اپنے خطاب میں گوتم اڈانی نے کہا کہ آج کی شام کو صرف 50 کروڑ ٹن کے ہدف کی تکمیل کے طور پر یاد نہ رکھا جائے بلکہ اسے اس لمحے کے طور پر یاد کیا جائے جب ہم نے اپنے عزم کو دوبارہ مضبوط کیا اور 2030 تک ایک ارب ٹن کے نئے ہدف کی جانب قدم بڑھایا۔گوتم اڈانی نے کہا کہ یہ موقع ماضی کی کامیابیوں پر نظر ڈالنے، گروپ کی ترقی کو سمجھنے اور اے پی ایس ای زیڈ کی جانب سے 50 کروڑ ٹن کارگو ہینڈل کرنے کی غیر معمولی کامیابی پر غور کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے واضح کیا کہ گروپ یہاں رکنے والا نہیں ہے اور اے پی ایس ای زیڈ، اڈانی گروپ اور بھارت کے بہترین دن ابھی آنے باقی ہیں۔

گوتم اڈانی نے منڈرا بندرگاہ کے قیام کی کہانی سناتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ 1990 کی دہائی میں وہ احمد آباد سے منڈرا تک ایک پرانی کونٹیسا کار میں رات بھر سفر کرتے تھے۔ اس وقت سڑکیں نہ ہونے کے برابر تھیں اور پورا علاقہ دلدلی زمین سے گھرا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھی ملئے کے ساتھ ان سنسان راستوں پر سفر کے دوران مقدر کا سکندر کا ٹائٹل گانا گایا کرتے تھے تاکہ سفر خوشگوار ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس گانے نے ان کے اندر یہ یقین پیدا کیا کہ اگر قسمت خود آپ کے پاس نہ آئے تو آپ کو خود اپنی قسمت بنانی پڑتی ہے۔ یہی جذبہ بعد میں ایک بڑے خواب میں تبدیل ہوا۔گوتم اڈانی نے کہا کہ عظیم تنظیمیں دو مرحلوں میں بنتی ہیں۔ پہلا ذہن میں، جہاں امید، اعتماد اور یقین جنم لیتا ہے، اور دوسرا حقیقی دنیا میں جہاں خواب آہستہ آہستہ حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔

گوتم اڈانی نے کہا کہ آج جس کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے اسے صرف کاروباری کامیابی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ان لوگوں کی محنت کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس خواب کو حقیقت بنانے میں کردار ادا کیا۔گوتم اڈانی نے مزید کہا کہ 50 کروڑ ٹن کارگو کی یہ کامیابی گروپ کی جدوجہد، کامیابیوں اور ناکامیوں کی یادوں سے جڑی ہوئی ہے، جو اڈانی گروپ کی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی ڈھانچے کو موثر طریقے سے چلانے میں انسانی محنت کا اہم کردار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سنگ میل کو ان تمام افراد کے نام کیا جانا چاہیے جو آخری مرحلے میں کام کرتے ہیں، جن میں کرین آپریٹرز، سمندری ٹیمیں، منصوبہ بندی اور لاجسٹکس ٹیمیں شامل ہیں، جو مسلسل دباؤ کے باوجود درستگی اور کارکردگی کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Seema Kumari Claims Asian Games: ایشین گیمز میں سیما کماری نے 10,000 میٹر دوڑ میں کانسے کا تمغہ جیتا، وزیر اعظم مودی نے سراہا

تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…

5 hours ago

Mushtaq Khan Passed Away: ’ویلکم‘ فیم اداکار مشتاق خان کا انتقال، 56 سال کی عمر میں کینسر سے ہار گئے زندگی کی جنگ

معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…

6 hours ago

Nasha Mukt Punjab Yatra: نشہ مکت پنجاب یاترا، 30 ستمبر کو جالندھر میں امت شاہ کریں گے اختتامی پروگرام سے خطاب

بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…

7 hours ago

PK Party Announces Bihar MLC: پی کے کا بڑا قدم، نیرج کمار کے خلاف جن سوراج نے اتارا امیدوار، اننت سنگھ کی بھی حمایت

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…

8 hours ago