نئی دہلی: قومی سطح پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف متحد نظر آنے والا اپوزیشن کا ’انڈیا‘ اتحاد اب ریاستی اسمبلی انتخابات میں اندرونی اختلافات کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مختلف ریاستوں میں اتحادی جماعتیں نہ صرف الگ الگ انتخابات لڑ رہی ہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف کھل کر انتخابی مہم بھی چلا رہی ہیں، جس سے اتحاد کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پارلیمنٹ میں مشترکہ موقف اپنانے والے اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتیں ریاستی سیاست میں مختلف ترجیحات اختیار کر رہی ہیں۔ چاہے ووٹر لسٹ کے معاملے پر بحث ہو، امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ یا ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جیسے خارجہ پالیسی کے موضوعات ہوں، اپوزیشن جماعتیں مرکز میں متحد دکھائی دیتی ہیں، لیکن ریاستی انتخابات میں ان کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔ اس دوران تیجسوی یادو، اکھلیش یادو اور ہیمنت سورین کھل کر ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے حق میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں، جبکہ کانگریس اور لیفٹ جماعتیں الگ الگ اپنی طاقت آزما رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اپوزیشن اتحاد کے اندر موجود نظریاتی اور سیاسی تضادات کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح کی صورتحال کیرالہ میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو کانگریس کے خلاف لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کے حق میں مہم چلا رہے ہیں، جبکہ چند ماہ قبل بہار اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل نے مل کر انتخابات لڑے تھے۔ اس انتخاب میں اپوزیشن اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور دوبارہ این ڈی اے حکومت قائم ہوئی تھی۔ اسی طرح جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے آسام اسمبلی انتخابات میں تنہا میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ آسام انتخابات سے قبل کانگریس کے انچارج جتیندر سنگھ اور ریاستی صدر گورو گوگوئی نے رانچی جا کر ہیمنت سورین سے حمایت مانگی تھی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں کانگریس امیدواروں کے لیے مہم چلانے کی بھی درخواست کی تھی، مگر صورتحال اس کے برعکس سامنے آئی۔
اس سے قبل دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب سماجوادی پارٹی نے کانگریس کے خلاف عام آدمی پارٹی کی حمایت کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتر پردیش میں لوک سبھا انتخابات کے دوران سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے اتحاد کیا تھا اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھی مل کر لڑنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف متحد رہنا اپوزیشن جماعتوں کی مجبوری ہے، لیکن ریاستی سیاست میں علاقائی جماعتیں اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ریاستوں میں اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے کر رہی ہیں اور انتخابی جلسوں میں براہ راست تنقید بھی کر رہی ہیں۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے۔ ایک طرف اسے قومی سطح پر اتحاد کو برقرار رکھنا ہے، تو دوسری طرف ریاستوں میں علاقائی جماعتوں کے ساتھ مقابلہ بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتحاد کے اندرونی تضادات وقتاً فوقتاً سامنے آ رہے ہیں۔
مغربی بنگال، کیرالہ اور آسام کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کی جماعتیں مرکزی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، مگر ریاستی سیاست میں ان کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر اختلافات کے باوجود قومی سطح پر اتحاد برقرار رہے گا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ اس تمام صورتحال نے اپوزیشن اتحاد کی اندرونی سیاست کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے، جہاں اتحاد کی سیاست اور علاقائی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…