قومی

Gautam Adani Pushes Sovereign AI Vision: گوتم اڈانی کا ’سَوَرین اے آئی‘ پر زور، بھارت کی ٹیکنالوجی خود کفالت کی سمت مضبوط اشارہ

معروف صنعت کار گوتم اڈانی نے بھارت میں ٹیکنالوجی خود مختاری پر ایک نئی قومی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ملک کی خود انحصاری مہم کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ بھارت کو اپنی مقامی اور خود مختار اے آئی صلاحیتیں تیار کرنی چاہئیں۔برامتی سے جاری ایک ویڈیو پوسٹ میں، جو ودیا پرتشٹھان شردچندر پوار اے آئی سینٹر آف ایکسیلینس کے افتتاح کے موقع پر ریکارڈ کی گئی، اڈانی نے ’سَوَرین اے آئی‘ کے قیام کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو غیر ملکی پلیٹ فارمز پر انحصار کم کرتے ہوئے ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنی ہوگی جو قومی ترجیحات کے مطابق ہو اور ملک کے کنٹرول میں رہے۔

گوتم اڈانی نے مصنوعی ذہانت کو صرف ایک تجارتی موقع نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک قومی اثاثہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اے آئی اقتصادی مضبوطی، اختراعی قیادت اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کا یہ موقف اڈانی گروپ کی اس وسیع حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہے، جس کے تحت گروپ اے آئی پر مبنی انفراسٹرکچر کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔

اڈانی گروپ پہلے ہی بھارت بھر میں ایک گیگا واٹ سے زائد ڈیٹا سینٹر صلاحیت قائم کرنے کے منصوبوں کا اشارہ دے چکا ہے، جو اے آئی، کلاؤڈ سروسز اور ڈیجیٹل گورننس کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان ڈیٹا سینٹرز کو مستحکم اور کم کاربن توانائی فراہم کرنے کے لیے نیوکلیئر پاور کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے، جو اس وژن کی طویل المدتی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اڈانی نے واضح کیا کہ بھارت کو صرف جدید الگورتھمز کا صارف نہیں بننا چاہیے بلکہ انہیں ملک کے اندر ڈیزائن، تربیت اور نافذ بھی کرنا چاہیے، تاکہ ڈیٹا، اختراع اور قدر کی تخلیق قومی سرحدوں کے اندر ہی رہے۔

اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ کئی صارفین نے اے آئی تعلیم اور اسکل ڈیولپمنٹ پر توجہ کو سراہا اور برامتی کے سینٹر کو میٹرو شہروں سے باہر اختراع کے مراکز قائم کرنے کی ایک مثال قرار دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو عام کریں گے اور بھارتی اے آئی محققین و کاروباری افراد کی نئی نسل تیار کریں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ ماہرین نے بڑے پبلک پرائیویٹ ٹیکنالوجی شراکت داریوں میں شفافیت، احتساب اور گورننس پر سوالات بھی اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ نجی سرمایہ اے آئی انفراسٹرکچر کو تیزی سے آگے بڑھا سکتا ہے، لیکن عوامی مفاد، اخلاقی استعمال اور مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط فریم ورک ضروری ہیں۔

ان مباحث کے باوجود، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گوتم اڈانی کا بیان ایک واضح سیاسی اور اقتصادی پیغام دیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب بھارت کے ترقیاتی بیانیے کے مرکز میں آ چکی ہے۔ ’سَوَرین اے آئی‘ کا تصور اس بڑے عزائم کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت کا ڈیجیٹل مستقبل ملک کے اندر ہی ڈیزائن، تعمیر اور منظم کیا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…

10 minutes ago

US-Greenland: گرین لینڈ پر امریکا کا قبضہ ، ٹرمپ کے دھورے  خواب ہوئے پورے، روس اور چین کو بڑے جھٹکے

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…

1 hour ago

?Will India Face a 100% Tariff: بھارت پر لگ سکتا ہے 100 فیصد ٹیرف؟ ٹرمپ نے نئے قانون پر دستخط کیے

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…

2 hours ago

Delhi – NCR Weather Today: دہلی -این سی آرمیں پر چھائے رہیں گے بادل، ہلکی بارش کے امکانات، حبس کرے گا پریشان

محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…

3 hours ago

JUSTICE B.R. GAVAI ADDRESS: باوقار زندگی کے بغیر حقوق بے معنی، جسٹس بی آر گوائی کا 9ویں این سی چاگلہ لیکچر سے خطاب

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…

11 hours ago