قومی

Delhi University’s Gargi College: ’اے بی وی پی گو بیک‘‘ کے نعروں کے درمیان گارگی کالج کے طلبہ نے ڈی یو ایس یو صدر کو کیمپس سے باہر نکالا

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کے گارگی کالج میں اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب طلبہ کے ایک بڑے گروپ نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (DUSU) کے صدر آریامن کو کیمپس سے باہر جانے پر مجبور کر دیا۔ طلبہ نے ان پر اور ان کے ساتھیوں پر غنڈہ گردی اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ عینی شاہدین کے مطابق طلبہ نے ’اے بی وی پی گوبیک‘ کے نعرے لگائے اور واقعے کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کیں، جبکہ بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث آریامن کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیمپس چھوڑنا پڑا۔ اس دوران سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔

انتخابی پس منظر میں کشیدگی

احتجاج میں شامل ایک طالبہ نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ کالج میں طلبہ یونین انتخابات کے پس منظر میں پیش آیا۔ ان کے مطابق ایک نااہل قرار دیے گئے امیدوار کو اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی حمایت حاصل تھی۔ طالبہ نے الزام لگایا کہ آریامن تقریباً 50 سے 60 افراد کے ساتھ کیمپس میں داخل ہوئے اور پولیس کی موجودگی کے باوجود ہنگامہ آرائی کی، جس کے بعد طلبہ نے متحد ہو کر انہیں باہر نکال دیا۔

اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کا سخت ردعمل

دوسری جانب اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اے بی وی پی سے وابستہ افراد نے زبردستی کیمپس میں داخل ہو کر طلبہ کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ ایس ایف آئی کے بیان میں کہا گیا کہ آریامن اور ان کے ساتھیوں نے جارحانہ رویہ اختیار کیا اور طلبہ و اساتذہ کو پریشان کرنے کی کوشش کی۔ تنظیم نے پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واقعہ ان کی موجودگی میں پیش آیا، جو کیمپس سکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے۔

طلبہ نے اتحاد اور جرأت کا کیا مظاہرہ

بیان میں مزید کہا گیا کہ گارگی کالج کے طلبہ نے اتحاد اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس صورتحال کا مقابلہ کیا اور ایک محفوظ اور جمہوری کیمپس کے اپنے حق کو برقرار رکھا۔ ایس ایف آئی نے اس معاملے کی مکمل جانچ اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس واقعے پر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ آریامن نے بھی الزامات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دہلی یونیورسٹی میں طلبہ سیاست اپنے عروج پر ہے اور مختلف طلبہ تنظیموں کے درمیان مقابلہ آرائی تیز ہوتی جارہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

58 minutes ago

11th Whiteswan Responsible Art Festival: 11واں وائٹ سوان آرٹ فیسٹیول: کتھک رقاصہ سنیہا مکھرجی نے مسحور کن پیشکش سے باندھا سماں

سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…

2 hours ago