تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے جمعہ (17 اپریل 2026) کو لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن بل سے متعلق صورتحال پر مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں حالیہ پیش رفت صرف سیاسی ناکامی نہیں، بلکہ بی جے پی کی نیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے حکومت کے دعوؤں کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ بھارت میں خواتین کو ووٹنگ کا حق کانگریس نے دیا اور خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے گئے، جب کہ بی جے پی پر الزام لگایا کہ اس کی تنظیمی تاریخ میں خواتین کو اعلیٰ قیادت میں مناسب نمائندگی نہیں ملی۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی اور تقریباً 50 سال میں 15 مرتبہ پارٹی صدر منتخب ہوئے، لیکن ان میں سے ایک بھی خاتون نہیں تھی۔ ان کے مطابق کئی مرد لیڈروں کو بار بار موقع دیا گیا، مگر خواتین کو قیادت میں جگہ نہیں ملی۔وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے اہم تنظیمی عہدے، جیسے جنرل سیکریٹری (آرگنائزیشن)، پر آج تک کسی خاتون کو تعینات نہیں کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی کی پالیسیوں میں خواتین کے لیے برابری موجود نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی خواتین کے حقوق کے لیے سنجیدگی ہوتی تو پارٹی اپنے اندرونی ڈھانچے میں بھی خواتین کو مساوی نمائندگی دیتی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان نے خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر جاری قومی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ایک طرف حکومت اسے تاریخی قدم قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اس کی نیت اور عمل درآمد دونوں پر سوال اٹھا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
جسٹس امت مہاجن کی سربراہی والی بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 15 اکتوبر…
بی جے پی کے زیر کنٹرول وڈودرا میونسپل کارپوریشن نے جون 2024 میں یوسف پٹھان…
امت شاہ کے پنجاب دورے سے پہلے بی جے پی نے ریاست میں منشیات کے…
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی جانچ کی مدد سے ملزمین کے…
قومی صدر قاری ابرار جمال نے 19 اکتوبر کو پوری ریاستی کمیٹی تحلیل کردی؛ سابق…
ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی دمام، جدہ اور ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی 20…