عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے مالی سال 2026 (FY26) کے لیے بھارت کی جی ڈی پی گروتھ پیش گوئی کو 6.9فیصد سے بڑھا کر 7.4فیصدکر دیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ کھپت میں مضبوط اضافہ اور حالیہ جی ایس ٹی اصلاحات کے مثبت اثرات ہیں۔
فچ کے مطابق اس سال بھارت کی اقتصادی سرگرمیوں کا سب سے بڑا سہارا پرائیویٹ کنزیومر اسپنڈنگ ہے، جسے بہتر حقیقی آمدنی، بڑھتے ہوئے یوزر کے اعتماد اور اصلاحات کے سہارے بیرونی طلب میں اضافے سے تقویت مل رہی ہے۔ یہ رپورٹ حکومت کے اس اعدادوشمار کے ایک ہفتے بعد آئی ہے ،جس میں دوسرے سہ ماہی میں بھارت کی جی ڈی پی گروتھ 8.2فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی 5.6فیصد شرح سے کہیں زیادہ ہے۔
مہنگائی تاریخی نچلی سطح پر
اکتوبر میں یوزر قیمت مہنگائی کم ہو کر 0.3فیصد کے ریکارڈ کم ترین درجے پر آئی، جس میں سب سے بڑا کردار خوراک و مشروبات کی قیمتوں میں 3.7فیصد کمی کا رہا۔ مضبوط مانسون بارشوں اور مناسب غذائی ذخائر کی وجہ سے جون سے خوراک کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہےکہ کور انفلیشن 4فیصدسے اوپر برقرار ہے، جس کی ایک اہم وجہ سونے اور چاندی کی بلند قیمتیں ہیں۔ فچ کا کہنا ہے کہ بیس ایفیکٹ کی وجہ سے 2026 کے آخر تک مہنگائی دوبارہ بڑھ کر ہدف سے اوپر جا سکتی ہے، البتہ 2027 میں اس میں صرف معمولی کمی کا امکان ہے۔
شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش
فچ کے مطابق مہنگائی میں کمی نے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کو دسمبر میں پالیسی ریٹ میں ایک اور کٹوتی کی گنجائش فراہم کی ہے، جس سے ریپو ریٹ 5.25فیصد تک آ سکتا ہے۔2025 میں اب تک 100 بیسس پوائنٹ کی کمی کی جا چکی ہے، جب کہ کیپس ریزرو ریشو (CRR) بھی 4فیصد سے کم کر کے 3فیصد کر دی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق مضبوط معاشی سرگرمی اور کور انفلیشن میں واپسی کو دیکھتے ہوئے یہ ممکنہ طور پر آر بی آئی کی اس سائیکل کی آخری ریٹ کٹ ہوگی، اور شرح سود آئندہ دو سال 5.25فیصد پر برقرار رہ سکتی ہے۔
FY27 میں شرح نمو گھٹ کر 6.4فیصد
فچ نے خبردار کیا ہے کہ FY27 میں شرح نمو 6.4فیصد تک کم ہو جائے گی۔ایجنسی کے مطابق:گھریلو طلب اب بھی بنیادی ڈرائیور ہوگی مالی نظم و ضبط کی وجہ سے حکومتی سرمایہ کاری کی رفتار کم ہوگی مالی حالات بہتر ہونے پر نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے کنزیومر اسپنڈنگ کی رفتار دھیمی پڑ سکتی ہے
FY28 کے لیے اندازہ – ترقی 6.2فیصد تک
FY28 میں ترقی مزید نرم ہو کر 6.2فیصد رہنے کا امکان ہے، کیونکہ درآمدات میں اضافہ گھریلو طلب کے اثر کو کم کر دے گا۔ فچ نے نشاندہی کی کہ بھارت کی امریکی منڈی میں برآمدات پر ETR تقریباً 35فیصد ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرحوں میں سے ایک ہے۔اگر امریکہ کے ساتھ ایسا تجارتی معاہدہ ہو جائے جو ETR کم کر دے، تو بھارت کی برآمدات اور بیرونی طلب میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…
وراٹ کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…