قومی

Rs 41,407 crore to be invested in auctioned coal mines: کوئلہ وزارت کا بڑا انکشاف،  نیلام شدہ کانوں میں 41,407 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری، 3.73 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع

پارلیمنٹ کو بدھ کے روز بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں وزارتِ کوئلہ نے 133 کوئلہ کانوں کی 12 مرحلوں میں نیلامی مکمل کی ہے، جن سے سالانہ 38,710 کروڑ روپے کی آمدنی اور 41,407 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔مرکزی  وزیر برائے کوئلہ و کانکنی جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ان کانوں کی مجموعی پیک ریٹڈ کیپسٹی 276.04 ملین ٹن سالانہ (MTPA) ہے۔ ان منصوبوں سے مجموعی طور پر 3,73,199 افراد کو روزگار ملنے کی امید ہے۔

32 ترک شدہ کانوں کی نشاندہی – 28 کو منظوری

وزیر نے کہا کہ ریونیو شیئرنگ ماڈل کے تحت اب تک 32 ترک شدہ کانوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔28 کانوں کے لیے قبولیت کے خطوط جاری کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی سالانہ صلاحیت 39.28 ملین ٹن ہے۔4 کانیں دوبارہ ٹینڈر کے مرحلے میں ہیں۔ 2025-2026 میں BCCL کی PB کان اور ECL کے گوپی ناتھ  پور پروجیکٹ میں پیداوار شروع ہو چکی ہے۔

2025-2026 کا قومی کوئلہ پیداواری ہدف 1157 ملین ٹن

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026-2025 کے لیے پورے ملک کا کچا کوئلہ پیداوار ہدف 1157 ملین ٹن مقرر ہے:کوئلہ انڈیا لمیٹڈ (CIL): 875 MT، سنگارینی کولیریز (SCCL): 72 MT، کیپٹیو، کمرشل و دیگر: 210 MT وزارت کوئلہ نے 2029-2030 تک گھریلو کوئلہ پیداوار کو بڑھا کر 1.5 ارب ٹن تک پہنچانے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔

ماحولیاتی ضابطوں پر سختی سے عمل

وزیر نے بتایا کہ سرکاری کوئلہ کمپنیاں کھدائی کے دوران سخت ماحولیاتی اصولوں پر عمل کرتی ہیں۔نئے منصوبوں یا توسیعی منصوبوں سے قبل ماحولیاتی منظوری   EIA/EMP) لازمی طور پر لی جاتی ہے۔ منظور شدہ مائننگ پلان کے مطابق لینڈ ریکلیمیشن بھی کیا جاتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے لیس نئے واشریز کو صفر فضلہ اخراج (Zero Effluent Discharge) کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان میں ہیوی میڈیا سائیکلون، ٹیٹر بیڈ سیپریٹر، اسپائرل کنسنٹریٹر، اور فرتھ فلوٹیشن جیسی جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔

کوئلہ گیسفکیشن کے لیے 8,500 کروڑ روپے کا پیکج

حکومت نے 24 جنوری 2024 کو کوئلہ و لیگنائٹ گیسفکیشن کے لیے 8,500 کروڑ روپے کے مالی امدادی منصوبے کی منظوری دی۔اس کے تحت سات پروجیکٹس منتخب کیے جا چکے ہیں، جو مختلف مراحل میں ہیں، اور کمیشننگ کے بعد سالانہ 11.755 ملین ٹن کوئلہ استعمال کریں گے۔

پرانی کانوں کی بحالی – ریونیو شیئرنگ ماڈل

کوئلہ انڈیا لمیٹڈ اپنی پرانی اور غیر فعال کانوں کو دوبارہ چلانے کے لیے ریونیو شیئرنگ ماڈل نافذ کر رہی ہے۔اس ماڈل میں مائن ڈویلپر اینڈ آپریٹر (MDO) کے ذریعے کان کو چلایا جاتا ہے اور نکالے گئے کوئلے کی آمدنی کا ایک حصہ بولی میں دی گئی شرح کے مطابق CIL کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Acharya Pramod Krishnam: مجھے اس طرح کی کالز پہلے بھی آ چکی ہیں، جان سے مارنے کی دھمکی پر آچاریہ پرمود کرشنم کا بیان

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…

23 minutes ago

Banks to remain open on Sunday: تین دن کی  بینک ہڑتال سے پہلے ضروری کام نمٹا لیں یوزر، 28 ستمبر سے کئی خدمات متاثر ہونے کا امکان

یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…

35 minutes ago

Kedarnath Dham: کیدارناتھ میں صرف 5 ماہ میں 50 ٹن سے زیادہ کچرا جمع، پچھلے پورے سیزن سے ڈھائی گنا زیادہ

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…

1 hour ago

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

3 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

4 hours ago