لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ کسان ہر دن مزید قرض میں ڈوبتے جا رہے ہیں اور کہا کہ یہ نظام کسانوں کو خاموشی سے مگر بے رحمی سے ختم کر رہا ہے، جبکہ مودی جی، جنہوں نے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا، وہ اپنے ہی پی آر شو میں مصروف ہیں۔
مہاراشٹر میں صرف تین ماہ میں 767 کسانوں کی خودکشی
ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں صرف تین ماہ میں 767 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ذرا تصور کریں… صرف 3 مہینے میں مہاراشٹر میں 767 کسانوں نے اپنی جان لے لی۔ کیا یہ صرف ایک عدد ہے؟ نہیں۔ یہ 767 اجڑے ہوئے گھرانے ہیں۔ 767 خاندان جو کبھی نہیں سنبھل پائیں گے۔ اور حکومت؟ خاموش۔ بےحسی سے تماشہ دیکھ رہی ہے۔
جو ملک کو کھلاتے ہیں، ان کی زندگیاں آدھی ہو رہی ہیں
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ کسان ہر دن مزید قرض میں ڈوب رہے ہیں—بیج مہنگے، کھاد مہنگی، ڈیزل مہنگا… لیکن ایم ایس پی کی کوئی ضمانت نہیں۔ جب وہ قرض معافی مانگتے ہیں تو نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا، لیکن جن کے پاس اربوں ہیں ان کے قرض مودی حکومت نے آسانی سے معاف کر دیے ہیں۔ ذرا آج کی خبروں پر نظر ڈالیں- انل امبانی کا 48,000 کروڑ روپے کا SBI فراڈ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مودی جی نے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ آج حقیقت یہ ہے کہ جو ملک کو کھلاتے ہیں، ان کی زندگیاں آدھی ہو رہی ہیں۔ یہ نظام کسانوں کو مار رہا ہے۔ خاموشی سے، لیکن مسلسل اور مودی جی مصروف ہیں اپنی پی آر شو دیکھنے میں۔
میڈ اِن چائنا مصنوعات پر انحصار باعث تشویش
بدھ کے روز راہل گاندھی نے میڈ اِن چائنا مصنوعات پر بھارت کے بڑھتے ہوئے انحصار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی زرعی بنیاد کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی زرعی معیشت، جو ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، شدید بحران کا شکار ہے کیونکہ کھاد جیسے اہم وسائل کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک زرعی ملک ہے اور کسان ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ لیکن آج یہی ریڑھ کی ہڈی غیر ملکی انحصار کے بوجھ تلے دب رہی ہے۔ بھارت 80 فیصد اسپیشلٹی کھاد چین سے درآمد کرتا ہے اور اب چین نے سپلائی روک دی ہے۔
کسان پہلے ہی ضروری کھادوں کی قلت سے پریشان
راہل گاندھی نے بتایا کہ کسان پہلے ہی یوریا اور ڈی اے پی جیسی ضروری کھادوں کی قلت سے پریشان ہیں۔ اب اسپیشلٹی کھادوں کی قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ ملک بھر کے کسان پہلے ہی یوریا اور ڈی اے پی کی کمی سے دوچار ہیں، اور اب ایک نئی چینی بحران اسپیشلٹی کھادوں پر منڈلا رہا ہے۔ ایک طرف وزیراعظم کھاد کے تھیلوں پر اپنی تصویر چھاپنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف ہمارے کسان میڈ اِن چائنا پر انحصار کرتے جا رہے ہیں۔
گھریلو پیداوار کو فروغ دینے میں حکومت ناکام
راہل گاندھی نے حکومت پر غفلت کا الزام لگایا اور کہا کہ متعدد وارننگ کے باوجود گھریلو پیداوار کو فروغ دینے میں حکومت ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کھاد کی گھریلو پیداوار بڑھانے کے لیے نہ کوئی پالیسی بنائی، نہ کوئی منصوبہ تیار کیا، جس کی وجہ سے کسان درآمدات پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے۔
’’ کس کا ساتھ، کس کا وکاس‘‘؟
راہل گاندھی نے سوال کیا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سپلائی کسی بھی وقت رک سکتی ہے، حکومت نے کوئی تیاری نہیں کی۔ جب گھریلو پیداوار کو فروغ دینے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب بھی کوئی پالیسی، کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ کیا اب بھارتی کسان اپنی ہی زمین پر بےبس ہو جائے گا؟ جب قیمتی وقت اور صحت مند فصلیں ضائع ہو رہی ہیں، کسان، جو قرض اور مایوسی میں ڈوبا ہوا ہے، یہ سوال پوچھ رہا ہے ’’ کس کا ساتھ، کس کا وکاس‘‘؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…