لندن / نئی دہلی: برطانیہ اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کنزرویٹو انڈیا پالیسی فورم (CIPF) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس فورم کا مقصد برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی اور بھارتی حکومت کے درمیان پالیسی سطح پر سنجیدہ مکالمہ قائم کرنا اور باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔ سی آئی پی ایف کے قیام کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے اور تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ہے، جبکہ برطانیہ عالمی سیاست، تجارت اور سلامتی کے شعبوں میں ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
تاریخی تعلقات اور مشترکہ جمہوری ذمہ داریاں
دستاویز کے مطابق برطانیہ اور بھارت کے تعلقات محض معاشی مفادات تک محدود نہیں بلکہ یہ رشتہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی، زبان، ثقافت، تعلیم، دفاع، صحت اور سلامتی جیسے کئی شعبوں پر محیط ہے۔ برطانیہ کو دنیا کی قدیم ترین جمہوریت اور بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک پر عالمی سطح پر خصوصی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ سی آئی پی ایف کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے فیصلے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ عالمی سماجی، سیاسی اور تجارتی نظام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
سرمایہ کاری، روزگار اور کووڈ کے دوران تعاون
فورم کی دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں بھارت اور برطانیہ کے قریبی تعلقات کے نتیجے میں برطانیہ میں نمایاں بھارتی سرمایہ کاری ہوئی، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملی۔ بھارتی کمپنیوں نے ٹیکس کی ادائیگی کے ذریعے برطانوی خزانے کو بھی مستحکم کیا۔ اسی طرح کووڈ-19 وبا کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو لاکھوں جانیں بچانے اور عالمی سطح پر معمولاتِ زندگی کی بحالی میں اہم قرار دیا گیا ہے۔
سلامتی اور دفاعی چیلنجز پر مشترکہ حکمتِ عملی
سی آئی پی ایف کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے برطانیہ اور بھارت کا تعاون ناگزیر ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال، دفاعی خطرات اور سلامتی کے نئے چیلنجز کے پیش نظر مسلسل مکالمہ اور پالیسی ہم آہنگی کو وقت کی اہم ضرورت بتایا گیا ہے۔
اہم شخصیات کی شمولیت
کنزرویٹو انڈیا پالیسی فورم میں برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی کئی نمایاں شخصیات شامل ہیں، جن میں ڈیم پریتی پٹیل (سابق وزیر داخلہ، صدر سی آئی پی ایف)، لارڈ رامی رینجر (نائب صدر)، بوب بلیک مین ایم پی (کو چیئرمین، ہاؤس آف کامنز)، بارونیس سینڈی ورما (کو چیئرمین، ہاؤس آف لارڈز)، نیاز قاضی (ایگزیکٹو ڈائریکٹر) اور پونم گوئل (اسٹریٹیجی کو چیئرمین) قابل ذکر ہیں۔ ان شخصیات کی شمولیت کو برطانیہ-بھارت تعلقات کے لیے ایک مضبوط سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
سی آئی پی ایف کا کہنا ہے کہ یہ فورم پالیسی تجاویز، تحقیق اور مکالمے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو آئندہ برسوں میں مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سوریا کمار یادو نے نوجوان بلے باز ویبھَو سوریہ ونشی کی تعریف کی، کہا- ان…
اتر پردیش کے مہوبا ضلع میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے کئی خاندانوں کے…
مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے پر ’مودی اسٹوری‘ نامی ایکس ہینڈل…
نیِم کرولی بابا کی زندگی اور ان کی مذہبی تعلیمات پر مبنی فلم ’ہنومان انش‘…
مرکزی وزیر برائے ریل اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی…
اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر…