قومی

IIT Roorkee International Conference: ترقی یافتہ بھارت کے لیے تعلیم اور خود انحصاری ضروری، آئی آئی ٹی روڑکی کے اسٹیج سے پروفیسر (ڈاکٹر) رچنا نے دیا پیغام

آئی آئی ٹی روڑکی کی جانب سے 24 سے 26 اپریل 2026 تک ایک بڑے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا نام ہے ’’ویژن 2047: خوشحال اور عظیم بھارت 2.0‘‘۔ افتتاحی سیشن میں ملک و بیرونِ ملک سے آئے کئی معزز مہمان موجود رہے۔ اس موقع پر جے آئی آئی ٹی کالج کی پروفیسر ڈاکٹر رچنا نے بھی شرکت کی۔

پروفیسر (ڈاکٹر) رچنا کا جذباتی خطاب

کانفرنس میں پروفیسر (ڈاکٹر) رچنا نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے کہا کہ آئی آئی ٹی روڑکی سے ان کا تعلق بے مثال ہے کیونکہ 28 سال پہلے وہ یہاں کی طالبہ تھیں۔ اس وقت اسے یونیورسٹی آف روڑکی کہا جاتا تھا اور اس سے پہلے یہ تھامسن یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ جس اعتماد کے ساتھ بات کر رہی ہیں، اس کا مکمل سہرا وہ اسی ادارے کو دیتی ہیں۔

روزگار کی نئی سوچ

اپنے خطاب میں انہوں نے روزگار کی تعریف پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ والدین اور طلبہ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ تعلیم کے بعد نوکری ملے گی یا نہیں، لیکن روزگار صرف نوکری تک محدود نہیں۔ ایک موچی، نائی یا کسان بھی اپنے کام کے ذریعے روزی کماتا ہے، جو کہ روزگار ہی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کا مقصد طلبہ کو صرف نوکری کے پیچھے بھگانے کے بجائے انہیں کاروبار اور خود انحصاری کی طرف راغب کرنا ہے۔

انکیوبیشن سینٹر اور اسٹارٹ اپس

انہوں نے بتایا کہ آئی آئی ٹی سمیت کئی اداروں میں انکیوبیشن سینٹر قائم کیے گئے ہیں جہاں طلبہ اپنے اسٹارٹ اپس شروع کر سکتے ہیں۔ یہ قدم طلبہ کو خود کفیل بنانے کی سمت میں اہم ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اساتذہ کو نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق ڈھالنے کے لیے تربیت کی ضرورت ہے اور حکومت اس سمت میں کام کر رہی ہے۔

اساتذہ کے معیار پر زور

پروفیسر رچنا نے اساتذہ کے معیار پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ شوق اور جذبے سے تدریس کو اپناتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ مقابلہ جاتی امتحانات میں ناکامی کے بعد اس پیشے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اساتذہ کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ تعلیم کا معیار بلند ہو سکے۔

نئی تعلیمی پالیسی پر والدین کی تشویش

انہوں نے بتایا کہ والدین نئی تعلیمی پالیسی میں تین زبانوں کی لازمی تعلیم کو لے کر فکر مند ہیں۔ کئی لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہندی اور سنسکرت کے ساتھ فرانسیسی یا جرمن جیسی غیر ملکی زبانیں کیسے پڑھائی جائیں؟ انہوں نے کہا کہ ان مباحث کو متوازن انداز میں آگے بڑھانا ہوگا تاکہ طلبہ اور والدین دونوں کا تعاون حاصل ہو سکے۔

حب الوطنی سے بھرپور اختتام

اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے حب الوطنی سے بھرپور ہندی کویتا کی کچھ لائنیں  پڑھیں:

نو کرن تم ہو، پرکاش تم، آؤ تمہیں وندن کروں۔

میں مر مٹوں تجھ پر وطن اور تیاگ دوں من اور تن۔

اسٹیج پر معزز مہمان

اس موقع پر کویندر گپتا، جے پی نڈا، جتیندر سنگھ،  ادارے کے ڈائریکٹر کے۔  پنت، سواولمبن آندولن کے محرک کشمیری لال، ستیش اور ودیا بھارتی کے قومی تنظیمی وزیر کے. این۔ رگھونندن سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔یہ کانفرنس نہ صرف تعلیم اور روزگار کی نئی تعریف پر غور و فکر کا موقع بنی بلکہ طلبہ، اساتذہ اور والدین کو مل کر ایک ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی ترغیب بھی دی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Bike rider Shivani Chauhan: گرفتاری کافی نہیں، سخت سزا ملنی چاہیے، گڑگاؤں ہٹ اینڈ رن کے ملزم کلیان بینسلا پر بولیں رائیڈر سیا

سیا نے کہا کہ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں پورا واقعہ بتایا…

2 hours ago

Sara Tendulkar: سارہ تندولکر کا دلکش انداز، بھابھی کے ساتھ دیے پوز، مداحوں کو گنیش چترتھی کی مبارکباد

سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…

2 hours ago