قومی

Court Acquits Somnath Bharti: عام آدمی پارٹی کے لیڈر سومناتھ بھارتی کو ملی بڑی راحت، افریقی خواتین سے مبینہ بدسلوکی کیس میں عدالت نے کیا بری

نئی دہلی: راؤز ایونیو کورٹ نے جمعہ کے روز عام آدمی پارٹی کے لیڈر سومناتھ بھارتی کو بڑی راحت دیتے ہوئے 2014 کے افریقی خواتین کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے معاملے میں بری کر دیا۔ عدالت نے سومناتھ بھارتی سمیت 16 دیگر افراد کو بھی الزامات سے بری کر دیا۔ یہ فیصلہ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نہا متل نے سنایا۔

عدالت کے فیصلے کی بنیاد

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ افریقی خواتین کے بیانات کو قابلِ قبول نہیں مانا جا سکتا کیونکہ وہ عدالت میں گواہی کے لیے پیش نہیں ہوئیں۔ عدالت نے یہ بھی پایا کہ بھیڑ کے ’غیر قانونی اجتماع‘ کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ، پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی مناسب وضاحت بھی استغاثہ فراہم نہیں کر سکا۔

عام آدمی پارٹی کا ردعمل

عام آدمی پارٹی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ پارٹی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ سومناتھ بھارتی ایک ذمہ دار عوامی نمائندے کے طور پر مقامی لوگوں کے مسائل حل کرنے گئے تھے، لیکن انہیں سیاسی سازش کے تحت پھنسایا گیا۔

سومناتھ بھارتی کا بیان

سومناتھ بھارتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ 12 سال کی طویل جدوجہد کے بعد 2014 کے مشہور کھڑکی کیس میں، جس میں وہ اور علاقے کے دیگر 17 افراد شامل تھے، تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ یوگنڈا اور دیگر افریقی ممالک سے وابستہ منشیات مافیا اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی سے متعلق تھا۔

کیس کا پس منظر

15 اور 16 جنوری 2014 کی درمیانی شب، اُس وقت کے وزیر قانون سومناتھ بھارتی نے اپنے حامیوں کے ساتھ جنوبی دہلی کے کھڑکی ایکسٹینشن علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مارا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے وہاں رہنے والی افریقی نژاد خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی۔

سومناتھ بھارتی کا موقف تھا کہ انہیں مقامی رہائشیوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ اس علاقے میں منشیات اور جسم فروشی کا غیر قانونی کاروبار چل رہا ہے اور پولیس اس پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔

دیگر تنازعات اور الزامات

واضح رہے کہ سومناتھ بھارتی پر 2018 میں نوئیڈا کے ایک نیوز چینل کی اینکر نے لائیو شو کے دوران بدزبانی اور دھمکی دینے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی اہلیہ لیپیکا مترا نے 2015 میں گھریلو تشدد اور ہراسانی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ 2016 میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مبینہ جھگڑے کے کیس میں 2021 میں ٹرائل کورٹ نے انہیں دو سال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

49 minutes ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

2 hours ago

DU Financial Support Scheme: دہلی یونیورسٹی کا 100 فیصد فیس معافی کا اعلان، درخواست کے لیے یہ دستاویزات ضروری

دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…

2 hours ago

Uproar over CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار پر ہنگامہ، پروگرام ملتوی، کانگریس کا احتجاج، مہوا موئترا نے تھانے میں درج کرائی شکایت

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…

3 hours ago

Delhi SIR: اڈوانی سے لے کر جے شنکر اور کیجریوال تک، حتمی ووٹر فہرست میں ہوں گے شامل VVIPs کے نام، الیکشن کمیشن نے وجہ بتائی

بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…

4 hours ago