قومی

DUSU Election Result 2023: دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین الیکشن کے نتائج کا اعلان، صدر سمیت تین عہدوں پر اے بی وی پی کا قبضہ، نائب صدر پر این ایس یو آئی کی جیت

DUSU Election Result 2023: دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین 2023 کے انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔ 4 سال بعد دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کو نیا صدر ملا ہے۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے امیدواروں نے 3 اہم عہدوں پرکامیابی حاصل کی ہے۔ نتائج کا اعلان شام 5.30 بجے کے قریب کیا گیا۔ اے بی وی پی نے صدر، جنرل سکریٹری اورسکریٹری کےعہدے پرکامیابی حاصل کی ہے، جبکہ نیشنل اسٹوڈنٹس آف انڈیا (این ایس یوآئی) نے نائب صدرکے عہدوں پرکامیابی حاصل کی ہے۔

کون کس عہدے پر جیتا؟

صدر- تشار ڈیڑھا (اے بی وی پی)

نائب صدر- ابھی دہیا (این ایس یو آئی)

جنرل سکریٹری- اپراجکتا (اے بی وی پی)

جوائنٹ سکریٹری- سچن بیسلا (اے بی وی پی)

قابل ذکرہے کہ اس باراکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا)، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) اورنیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یوآئی) سمیت مختلف طلبہ یونین گروپس کے کل 24 امیدوارمیدان میں تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس الیکشن میں 1 لاکھ 17 ہزارطلبہ نے ووٹ ڈالے تھے۔ مجموعی طورپر42 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ ووٹنگ کے لئے کل 52 ووٹنگ مراکزبنائے گئے تھے اور173 ای وی ایم مشینیں لگائی گئی تھیں۔

مرکزی وزیر امت شاہ نے اے بی وی پی کو دی مبارکباد

وزیرداخلہ امت شاہ نے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر پوسٹ کرکے لکھا، ”دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے الیکشن میں کو ملی زبردست جیت پر پریشد کے سبھی کارکنان کو دلی مبارکباد۔ یہ جیت نوجوان نسل کے اس نظریے پربھروسے کی عکاسی کرتی ہے، جو قومی مفاد کواولین ترجیح دیتا ہے۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ کونسل کے کارکنان سوامی وویکانند کے نظریات اور نوجوانوں میں قوم پرستی کے جذبے کو زندہ رکھنے کے لئے مسلسل پُرعزم طریقے سے کام کرتے رہیں گے۔

اس سے پہلے کے طلبہ یونین کے انتخابات 2019 میں، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے 4 میں سے تین نشستوں پرتاریخی جیت درج کی تھی، جبکہ نیشنل اسٹوڈنٹس آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے ایک سیٹ جیتی تھی۔ اے بی وی پی نے صدر، نائب صدراورجوائنٹ سکریٹری کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ جنرل سکریٹری کا عہدہ این ایس یو آئی کے پاس رہا۔

قابل ذکرہے کہ اس بارکل 42 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ 2019 میں 39.90 فیصد، 2018 میں 44.46 فیصد اور2017 میں 42.80 فیصد تھی۔ دہلی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات 2020 اور 2021 میں کورونا کی وجہ سے نہیں ہوئے تھے۔ اس بارکا الیکشن اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ لوک سبھا کے انتخابات اگلے سال یعنی 2024 میں ہونے والے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

7 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

8 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

8 hours ago