قومی

Dr Priti Adani to Address The World Symposium: وارانسی میں 2 سے 4 نومبر تک ’ارسطو-کنفیوشس سمپوزیم 2026‘ کا انعقاد، ڈاکٹر پریتی اڈانی کریں گی خطاب

دنیا کی اہم فلسفیانہ اور تہذیبی روایات کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے مقصد سے وارانسی میں 2 سے 4 نومبر تک ’ارسطو-کنفیوشس سمپوزیم 2026‘ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس بین الاقوامی اجلاس میں اڈانی فاؤنڈیشن کی بانی اور چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی بھی شرکت کریں گی اور پروگرام سے خطاب کریں گی۔

یہ سمپوزیم مختلف علمی روایات، تعلیمی اداروں، مفکرین اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔ اجلاس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی جدید ٹیکنالوجی کو بھی شامل کیا جائے گا، تاکہ مختلف ثقافتوں اور نظریات کے درمیان مکالمے اور باہمی تفہیم کو نئی سمت دی جا سکے۔

وارانسی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

حکام کے مطابق، اس بین الاقوامی پروگرام کے لیے وارانسی کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دنیا کے قدیم ترین اور مسلسل آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ دریائے گنگا کے کنارے واقع یہ شہر صدیوں سے تعلیم، فلسفے، روحانی فکر اور زیارت کی روایات کا مرکز رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ہندو، بدھ اور جین، تین اہم علمی روایات کا منفرد سنگم بھی ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق، یہ سمپوزیم اس تصور پر مبنی ہے کہ آج دنیا کو جن بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے، ان میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، ماحولیاتی بحران اور تکنیکی تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف تکنیکی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے مضبوط اخلاقی اقدار اور مختلف ثقافتوں کے درمیان بہتر تفہیم بھی ضروری ہے۔

مختلف فلسفیانہ روایات پر ہوگا تبادلۂ خیال

سمپوزیم میں ارسطو، کنفیوشس، ہندو، بدھ، جین، کیتھولک، اسلامی اور دیگر فلسفیانہ روایات کے درمیان مماثلتوں اور اختلافات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ خاص طور پر اخلاقی خوبیوں پر مبنی نظریات، بہتر طرز حکمرانی اور طاقت کے اخلاقی استعمال جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

حکام کے مطابق، اس اجلاس کے ذریعے قدیم علمی ورثے کو عصر حاضر کے عالمی چیلنجوں سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت پر مبنی زبان اور مکالمے کے آلات کے استعمال سے مختلف زبانوں اور روایات کے درمیان رابطے کو آسان بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

2 اور 3 نومبر کو اہم اجلاس، 4 نومبر کو ثقافتی دورے

سمپوزیم کے اہم اجلاس 2 اور 3 نومبر کو منعقد ہوں گے۔ ان میں ماہرین کے خطابات، موضوعاتی مباحث، تقابلی فلسفے، عالمی حکمرانی اور امن جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ جبکہ 4 نومبر کو ثقافتی دوروں اور تاریخی ورثے کے مقامات کی سیر کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

اس دوران شرکاء کو وارانسی کے ثقافتی اور روحانی ورثے کو قریب سے جاننے کا موقع ملے گا۔ پروگرام میں گنگا گھاٹوں کا دورہ، گنگا آرتی میں شرکت، اہم مندروں کے درشن اور سارناتھ کی سیر بھی شامل ہے۔

منتظمین کا ماننا ہے کہ یہ سمپوزیم صرف علمی مباحث تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ شرکاء کو ہندوستان کے زندہ اور متنوع ثقافتی ورثے کا براہ راست تجربہ بھی فراہم کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

شمیم نکہت اردو فکشن ایوارڈ ڈاکٹر صبیحہ انور اور وقار رضوی صحافت ایوارڈ سنجے شرما کو تفویض، آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی، لکھنؤ میں تقریب منعقد

ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو…

23 minutes ago

Successful 5 Years of Social Change: برج کمیونیکیشنز نے یومِ تاسیس منایا، نیپال سے بین الاقوامی توسیع کا آغاز

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برج کمیونیکیشنز سماجی ترقی کے شعبے میں ایک جامع اور…

39 minutes ago

ڈگری سے مارک شیٹ تک، ہرجگہ صرف Bharat، مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی میں لفظ India ختم، دستاویزوں میں نظرآئے بھارت

مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی نے کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اب یونیورسٹی…

2 hours ago