کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار۔ (فائل فوٹو)
کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اسمبلی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ترانہ پڑھنے پر معافی مانگی ہے۔ انہوں نے وضاحت دی کہ یہ اقدام بی جے پی کے لیڈروں کا مذاق اڑانے کے لیے تھا اور ان کا مقصد کسی کے جذبات مجروح کرنا نہیں تھا۔ بنگلورو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ ’’میں نے صرف تبصرہ کیا اور بی جے پی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ کچھ دوست اس بات کو سیاسی رنگ دے کر عوام میں الجھن پیدا کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو اس سے تکلیف پہنچی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘
کانگریس سے وفاداری کا اعادہ
شیوکمار نے بی جے پی اور آر ایس ایس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’گاندھی خاندان پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ میں پیدائشی کانگریسی ہوں اور کانگریسی رہ کر ہی مروں گا۔ میرے دوست اور حمایتی مختلف سیاسی جماعتوں میں ہیں، لیکن میں کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔‘‘
واقعے کی تفصیل اور پس منظر
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب شیوکمار نے کرناٹک اسمبلی میں آر ایس ایس کا ترانہ ’’نمستے سدا وتسلے ماتربھومے‘‘ پڑھا۔ یہ واقعہ جمعرات کو اسمبلی میں اس وقت پیش آیا جب بی جے پی ایم ایل اے آر اشوکا نے شیوکمار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو چناسوامی اسٹیڈیم بھگدڑ کے لیے ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ جواب میں شیوکمار نے کہا کہ وہ بی جے پی کی تمام چالوں سے واقف ہیں اور پھر آر ایس ایس کے ترانے کی چند سطریں پڑھ دیں۔ اس کے بعد سے ان کے بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی تھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جب مقامی مصنوعات کی بات ہوتی ہے تو کھادی…
پروگرام کے دوران وزیراعظم نے پنجاب کے مالوہ علاقے میں روایتی زرعی طریقوں کو دوبارہ…
یہ پروگرام ہریدوار کی تنظیم دویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام منعقد کیا جا…
پورے تنازع کی شروعات قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران ہوئی۔ اننت سنگھ نے…
اپنی پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے…
جنوبی بحرالکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک وانواتو میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس…