قومی

National Teachers Award 2025: قومی اساتذہ ایوارڈ 2025 سے سرفراز علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی ممتاز پروفیسر ویبھا شرما

تحریری مضمون: خالد مصطفیٰ

تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرانا نہیں بلکہ انسان کو باشعور، حساس اور بااعتماد بنانا ہے۔ یہی فلسفہ اپنی عملی زندگی میں اپنانے والی شخصیت کا نام ہے پروفیسر ویبھا شرما، جو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں پروفیسر ہیں۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب استاد ہیں بلکہ ایک فنکار، محقق، رہنما اور سماجی خدمت گزار بھی ہیں۔ ان کی خدمات کو حال ہی میں قومی اساتذہ ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا، جو اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ ان کا تدریسی وژن آج کے تعلیمی نظام میں کس قدر اہم ہے۔

روایتی تدریس سے آگے کا سفر

ڈاکٹر ویبھا شرما نے ہمیشہ یہ کہا کہ:“تعلیم وہی ہے جو کتاب کے صفحے سے نکل کر انسان کی زندگی میں اتر جائے۔”

اسی سوچ کے تحت انہوں نے انگریزی ادب اور تھیٹر کو یکجا کر کے تدریس کو ایک زندہ اور بامعنی تجربہ بنا دیا۔ ان کی کلاس روم تدریس لیکچر کے محدود دائرے سے نکل کر طلبہ کی عملی شمولیت اور تخلیقی سرگرمیوں پر مبنی ہوتی ہے۔ رول پلے، ڈرامہ، مباحثہ اور گروپ ایکٹیویٹیز کے ذریعے انہوں نے تعلیمی عمل کو محض علمی نہیں بلکہ تجرباتی بنایا۔

ہندوستانی علمی روایت اور تھیٹر

ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ’’انڈین نالج سسٹمز‘‘ کو تھیٹر کے ساتھ جوڑا۔ ہندوستان کی لوک کتھائیں، رامائن، مہابھارت، کتھا وارتا، اور مختلف لوک ڈرامے نہ صرف ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں بلکہ یہ تدریس میں طلبہ کی دلچسپی بڑھانے کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔

ڈاکٹر ویبھا شرما نے انہی عناصر کو نصاب میں شامل کر کے طلبہ کو یہ احساس دلایا کہ تعلیم صرف مغرب کی دین نہیں بلکہ ہماری اپنی تہذیب بھی ایک بڑی درسگاہ ہے۔

طلبہ کی رہنمائی اور شخصیت سازی

ڈاکٹر ویبھا شرما کے شاگرد اکثر یہ کہتے ہیں کہ ان کے کلاس روم میں جانا ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ وہ طلبہ کو صرف نصاب نہیں پڑھاتیں بلکہ ان کے اندر خود اعتمادی اور سماجی ذمہ داری بھی پیدا کرتی ہیں۔ پسماندہ پس منظر سے آنے والے طلبہ کو انہوں نے ہمیشہ خصوصی توجہ دی۔

ایک طالب علم کے الفاظ ہیں:“میڈم ویبھا نے ہمیں صرف انگریزی نہیں سکھائی بلکہ زندگی جینے کا ہنر دیا۔”

قومی و بین الاقوامی سطح پر خدمات

ڈاکٹر ویبھا شرما نے ملک بھر میں ریسورس پرسن کے طور پر لیکچرز دیے اور ورکشاپس کی قیادت کی۔ انہوں نے MOOCs (Massive Open Online Courses) اور GIAN کورسز تیار کیے جن کے ذریعے ہزاروں طلبہ، خاص طور پر محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں تک معیاری تعلیم پہنچائی۔

ان کی کاوشیں ’’نئی تعلیمی پالیسی 2020‘‘ کے وژن سے ہم آہنگ ہیں، جس میں تعلیم کو تخلیقی، ہمہ گیر اور طلبہ کے لیے دلچسپ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

نمایاں ڈرامائی تخلیقات

ڈاکٹر ویبھا شرما نے کئی ڈرامے لکھے اور اسٹیج پر پیش کیے جو سماجی اور تعلیمی موضوعات پر مبنی تھے۔ ان کے ڈرامے محض تفریح نہیں بلکہ سوچنے پر مجبور کرنے والے آئینے ہیں۔

ایک ڈرامہ میں انہوں نے ’’تعلیم اور سماجی ناہمواری‘‘ کو موضوع بنایا، جس میں بتایا کہ کس طرح غربت اور طبقاتی فرق طلبہ کے خواب چھین لیتے ہیں۔

دوسرے ڈرامے میں انہوں نے ’’عورت کی شناخت‘‘ پر روشنی ڈالی، اور طلبہ کو یہ سکھایا کہ فن کس طرح سماجی انصاف کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ان کی کئی پرفارمنسز کو قومی سطح پر پذیرائی ملی اور طلبہ کو اسٹیج کے ذریعے اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

تحقیقی کام اور اشاعتیں

ڈاکٹر ویبھا شرما نے انگریزی ادب اور تھیٹر پر کئی تحقیقی مقالات اور کتب تحریر کی ہیں۔ ان کے ریسرچ پیپرز مختلف بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوئے ہیں جن میں تعلیم، تھیٹر اسٹڈیز، اور ہندوستانی ادبی ورثے پر نئی تحقیق شامل ہے۔

وہ نہ صرف تدریس بلکہ تحقیق میں بھی نئی راہیں کھول رہی ہیں، تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک مضبوط علمی بنیاد رکھی جا سکے۔

تھیٹر بطور تربیتی تجربہ

ڈاکٹر ویبھا شرما کا ماننا ہے کہ تھیٹر زندگی کو جینے کا ایک فن ہے۔ اس میں طلبہ کو دوسروں کی زندگی کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی تجربہ انہیں زیادہ حساس اور باشعور بناتا ہے۔

تھیٹر کے ذریعے وہ طلبہ کو قیادت، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور اظہار کی آزادی سکھاتی ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں زندگی میں کامیاب بناتی ہیں۔

جب انہیں قومی اساتذہ ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا تو یہ نہ صرف ایک شخص کی کامیابی تھی بلکہ ایک پورے نظریے کی جیت تھی۔ یہ اعزاز اس بات کی علامت ہے کہ آج کا ہندوستان ایسے اساتذہ کو پہچان رہا ہے جو تعلیم کو محض پیشہ نہیں بلکہ مشن سمجھتے ہیں۔

نتیجہ: ایک روشن مثال

ڈاکٹر ویبھا شرما کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ استاد صرف سبق پڑھانے والا نہیں بلکہ سماج کا معمار ہوتا ہے۔ انہوں نے تعلیم کو فن، تحقیق اور انسانیت کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی راہ دکھائی ہے۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر تدریس کو تخلیقی اور عملی انداز میں اپنایا جائے تو یہ نسلوں کی تقدیر بدل دے گی۔

قومی اساتذہ ایوارڈ 2025 کی فاتح علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی ممتاز پروفیسر ڈاکٹر ویبھا شرما کو ملا یہ ایک اعزاز نہیں بلکہ یونیورسٹی کی ایک پہچان ہے جو ابر یہاں سے اٹھیگا وہ سارے جہاں پر برسیگا ، یہ یونیورسٹی ترانے کی لائن ہے جو یہاں پر ٹھیک بیٹھتی ہے ، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ اور طالب علم پوری دنیاں میں نام روشن کرنے کا ہنر جانتے ہیں جو کر کے بھی دکھا رہے ہیں۔

تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے، لیکن اگر تعلیم محض نصاب اور کتابوں تک محدود ہو جائے تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔ تعلیم کی اصل طاقت وہی ہے جو انسان کی شخصیت کو نکھارے، سوچنے کا ڈھنگ سکھائے، اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرے۔ اسی مقصد کو عملی جامہ پہنانے والی شخصیت کا نام ہے ڈاکٹر ویبھا شرما، جو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں پروفیسر ہیں۔ حال ہی میں انہیں قومی اساتذہ ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی محنت اور تخلیقی سوچ کا اعتراف ہے بلکہ پوری تعلیمی برادری کے لیے ایک نئی مثال بھی ہے۔

ڈاکٹر ویبھا شرما نے تدریس کے روایتی طریقے کو کبھی کافی نہیں سمجھا۔ ان کا ماننا ہے کہ لیکچر سنانے یا کتابیں رٹوانے سے تعلیم کی اصل منزل حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اسی لیے انہوں نے اپنے تدریسی انداز کو فنونِ لطیفہ، خاص طور پر تھیٹر کے ساتھ جوڑ دیا۔ کلاس روم میں ڈرامہ پرفارمنسز، رول پلے، مباحثے اور تخلیقی مشقوں کے ذریعے انہوں نے نصاب کو طلبہ کی زندگی کے قریب کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی کلاسیں محض پڑھائی کا مرکز نہیں ہوتیں بلکہ ایک زندہ تجربہ گاہ لگتی ہیں جہاں ہر طالب علم اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع پاتا ہے۔

تھیٹر بطور تربیتی میدان

ڈاکٹر ویبھا شرما کا یہ ماننا ہے کہ تھیٹر زندگی کو قریب سے سمجھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس میں انسان کو دوسروں کی کہانی جینے کا موقع ملتا ہے، اور یہی تجربہ اسے زیادہ حساس، باشعور اور ذمہ دار بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تھیٹر کو طلبہ کی تربیت میں مرکزی مقام دیا۔

ان کے کئی شاگرد آج مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں اور وہ اس کا سہرا اپنی استاد کے سر باندھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میڈم ویبھا نے ہمیں کتابی علم کے ساتھ ساتھ زندگی جینے کا ہنر بھی دیا۔‘‘

قومی اساتذہ ایوارڈ 2025: ایک تاریخی لمحہ

اس سال جب انہیں قومی اساتذہ ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا تو یہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک نظریے کی فتح تھی۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ تعلیم اگر فن، جذبے اور سماجی شعور کے ساتھ جڑ جائے تو وہ سماج کے سب سے پسماندہ طبقے تک بھی روشنی پہنچا سکتی ہے۔یہ ایوارڈ اس بات کی علامت ہے کہ آج کا ہندوستان ایسے اساتذہ کو پہچان رہا ہے جو تعلیم کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن سمجھتے ہیں۔ڈاکٹر ویبھا شرما کی شخصیت اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ استاد صرف سبق پڑھانے والا نہیں بلکہ نسلوں کی تقدیر بدلنے والا معمار ہوتا ہے۔ انہوں نے تعلیم کو فن اور انسانیت کے ساتھ جوڑ کر یہ دکھایا ہے کہ تدریس صرف کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ یہ سماج کی تشکیل نو کا ایک عمل ہے۔

اختمامی نظریہ

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو ان پر  فخر ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ڈاکٹر ویبھا شرما نہ صرف اپنے طلبہ بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مشعلِ راہ ہیں اور پورے ملک کے لیے وہ ایک ایسی روشن مثال ہیں جو آنے والی صدیوں تک یاد رکھی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…

1 hour ago

US-Greenland: گرین لینڈ پر امریکا کا قبضہ ، ٹرمپ کے دھورے  خواب ہوئے پورے، روس اور چین کو بڑے جھٹکے

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…

2 hours ago

?Will India Face a 100% Tariff: بھارت پر لگ سکتا ہے 100 فیصد ٹیرف؟ ٹرمپ نے نئے قانون پر دستخط کیے

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…

3 hours ago

Delhi – NCR Weather Today: دہلی -این سی آرمیں پر چھائے رہیں گے بادل، ہلکی بارش کے امکانات، حبس کرے گا پریشان

محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…

4 hours ago