حالانکہ حیدرآباد لوک سبھا سیٹ کے انتخابات مکمل ہوچکے ہیں لیکن اس سیٹ کو لے کر لیڈروں کی جانب سے بیان بازی جاری ہے۔ بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد انتخابات کے دوران فرضی ووٹنگ ہوئی۔ ہندوؤں کے ووٹ مسلمانوں کی طرف سے ڈالے گئے۔
دراصل گجرات کے سورت میں بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔ ٹی راجہ سنگھ نے کہا، “مادھوی لتا نے حیدرآباد میں ایک بڑی لڑائی لڑی تھی، لیکن بدقسمتی سے یہاں بڑی تعداد میں فرضی ووٹنگ کا شبہ تھا اور یہ بوتھس پر بھی دیکھا گیا”۔
بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ کا دعویٰ
بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ نے کہا، ”ہندو ووٹ مسلمانوں نے ڈالے۔ یہ تمام ہندو خواتین کے ووٹ تھے، جو برقعہ پوش مقامی لوگوں نے ڈالے تھے۔ یہاں پولیس بھی اسد الدین اویسی کی حمایت میں کھڑی ہوگئی۔ اویسی اور ان کے بھائی کے پاس تلنگانہ حکومت سے حمایت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے۔ خواہ وہ کسی بھی جماعت کی ہو، نتائج ہمارے حق میں ہوتے نظر نہیں آتے۔ اس بار بھی مجھے لگتا ہے کہ ہم یہاں ناکام ہونے والے ہیں۔
حیدرآباد میں ووٹنگ کب ہوئی؟
حیدرآباد لوک سبھا سیٹ کے لیے چوتھے مرحلے کے دوران 13 مئی کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی ایک بار پھر اس سیٹ سے میدان میں ہیں، جب کہ بی جے پی نے اس بار مادھوی لتا کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ ووٹنگ کے دوران مادھوی لتا کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ کچھ مسلم خواتین ووٹرز کے برقعہ اٹھا کر ان کے چہروں کو دیکھ رہی تھیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بہار کے ضلع ویشالی میں راگھوپور کے قریب کشتی بے قابو ہو کر الٹ گئی۔…
کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…
دہلی پولیس نے جنتر منتر کے علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں…
تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…
وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…
رشی سونک نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، آج نئی…