ممبئی کی دھاراوی بستی کو نئے سرے سے ترقی دینے کے منصوبے نے پیر کو ایک اہم مرحلہ طے کیا۔ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ (AEL) کے ڈائریکٹر پرنو اڈانی نے ماٹونگا میں ریلوے کی 22 ایکڑ اراضی پر سنگ بنیاد رکھ کر بازآبادکاری عمارتوں کی تعمیر کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کا مقصد دھاراوی کے اہل رہائشیوں کو بہتر رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ دھاراوی ایشیا کی سب سے بڑی غیر رسمی بستیوں میں سے ایک ہے، جہاں 10 لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔ ایسے میں اس بازآبادکاری منصوبے کو یہاں کے خاندانوں کی زندگی، روزگار اور آس پاس کی سہولیات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ماٹونگا میں مجوزہ منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 10 ٹاور تعمیر کیے جائیں گے۔ ان میں 10,432 بازآبادکاری مکانات کے علاوہ 1,379 تجارتی اور صنعتی یونٹس بھی تیار کیے جائیں گے۔ منصوبے کے مطابق، اہل رہائشیوں کو 350 مربع فٹ کے مکانات دیے جائیں گے۔ تعمیر کی ذمہ داری اڈانی نوبھارت ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ (ANDPL) کو سونپی گئی ہے، جسے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے لیے خصوصی کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ پرنو اڈانی نے کہا کہ ہر خاندان کو ایسا گھر ملنا چاہیے جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کرے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرسکے۔ ان کے مطابق، ماٹونگا میں بننے والے مکانات اور تجارتی یونٹس کا مقصد لوگوں کو بہتر رہائش فراہم کرنے کے ساتھ ایک منظم محلہ بھی تیار کرنا ہے۔
سب سے پہلے کن لوگوں کو ملیں گے گھر؟
منصوبے کے مطابق، دھاراوی کے سیکٹر 6 اور سیکٹر 1 کے اہل رہائشیوں کو ماٹونگا میں پہلے مکانات دیے جائیں گے۔ اس کے بعد دھاراوی کے دیگر اہل رہائشیوں کے لیے تقریباً 4,500 اپارٹمنٹس ترجیحی بنیاد پر دستیاب کرانے کا منصوبہ ہے۔ تاہم، مکانات کی الاٹمنٹ اہلیت کے ضوابط کے مطابق ہوگی۔ اس لیے رہائشیوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ وہ کس زمرے میں آتے ہیں اور انہیں گھر ملنے کی باری کب آئے گی۔ مہاراشٹر حکومت کے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور سلم ری ہیبیلیٹیشن اتھارٹی (DRP/SRA) کو ان عمارتوں کی حوالگی تین مرحلوں میں کی جائے گی۔ مقررہ پروگرام کے مطابق، پہلے پانچ ٹاور مارچ 2029 تک، اگلے دو ٹاور اگست 2029 تک اور باقی تین ٹاور اگست 2030 تک حوالے کیے جانے ہیں۔
لفٹ سے لے کر اجتماعی سہولیات تک کا انتظام
ان عمارتوں کو محض رہائشی مکانات کا مجموعہ بنانے کے بجائے ضروری سہولیات سے آراستہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہر ٹاور میں 37 سے 39 منزلیں ہوں گی۔ ان میں 10 سے 12 مسافر لفٹ اور آگ لگنے جیسی ہنگامی صورت حال کے لیے دو الگ فائر لفٹ لگانے کی تجویز ہے۔ تجارتی اور صنعتی یونٹس کے لیے دو اضافی لفٹ بھی ہوں گی۔ احاطے میں بچوں کے لیے کنڈرگارٹن، کمیونٹی ہال، کھلی جگہوں پر بیٹھنے کا انتظام، پوڈیم گارڈن، سوسائٹی آفس اور پوجا پاٹھ کے لیے جگہ جیسی سہولیات بھی تجویز کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو روزمرہ کی ضروریات کے لیے بار بار دور نہ جانا پڑے اور نئی عمارتوں میں اجتماعی زندگی کے لیے بھی مناسب جگہ دستیاب ہو۔ اس کے علاوہ، ہر بازآبادکاری عمارت کے تجارتی حصے کا 10 فیصد حصہ مشترکہ بنیادی سہولیات کی دیکھ بھال کے لیے آمدنی حاصل کرنے کی غرض سے مختص رہے گا۔ کمپنی کے مطابق، مکانات حوالے کیے جانے کے بعد ابتدائی 10 برس تک عمارتوں اور مشترکہ سہولیات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ANDPL ادا کرے گی۔
ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی مدد سے تیار کیا گیا منصوبہ
اس پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن تیار کرنے کے لیے مختلف اداروں کی مہارت سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ ان میں امریکہ کی ڈیزائن فرم ساساکی، برطانیہ کی انجینئرنگ کنسلٹنسی بیورو ہیپولڈ، ممبئی کا اسٹوڈیوPOD، معمار حفیظ کنٹریکٹر، P&T اور ARC اسٹوڈیو شامل ہیں۔ سنگاپور کے شہری منصوبہ بندی کے ماہرین سے بھی تعاون حاصل کیا گیا ہے۔ سنگ بنیاد کی تقریب میں مہاراشٹر حکومت کے شہری ترقیاتی محکمے کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اسیم کمار گپتا مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور سلم ری ہیبیلیٹیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو افسر ڈاکٹر مہندر کلیانکر نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ ڈاکٹر کلیانکر نے کہا کہ یہ دھاراوی کے خاندانوں کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے محفوظ اور جدید مکانات کے ساتھ بہتر بنیادی ڈھانچہ اور ضروری سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا۔
ایکسپیرینس سینٹر میں پہلے ہی دکھائی گئی تھی منصوبے کی جھلک
تعمیر شروع ہونے سے پہلے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے بارے میں لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک ایکسپیرینس سینٹر بھی قائم کیا گیا تھا۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے گاندھی جینتی کے موقع پر اس کا افتتاح کیا تھا۔ اس موقع پر دھاراوی کے لیے مخصوص ایک گیت جاری کیا گیا اور وہاں کے لوگوں، ثقافت اور تاریخ پر مبنی ایک کافی ٹیبل بک کی بھی رونمائی کی گئی۔ تقریباً 22,500 مربع فٹ پر پھیلے اس سینٹر میں مجوزہ مکانات کے اصل سائز کے نمونے، تھری ڈی واک تھرو اور انٹرایکٹو ڈسپلے لگائے گئے ہیں۔ ان کی مدد سے لوگ مکانات، کام کرنے کی جگہوں، ٹرانسپورٹ، کھلی جگہوں اور دیگر سہولیات کے مجوزہ انتظامات کو سمجھ سکتے ہیں۔ ANDPL کے چیف ایگزیکٹیو افسر انل سردانا نے کہا کہ ایکسپیرینس سینٹر کے ذریعے لوگوں کو نئے مکانات اور منصوبہ بند علاقے کی ابتدائی جھلک دکھائی گئی ہے۔ اب کمپنی کی توجہ تعمیر مکمل کرنے اور مکانات حوالے کیے جانے کے بعد طویل عرصے تک عمارتوں کی دیکھ بھال یقینی بنانے پر ہے۔
صرف مکانات نہیں، مکمل ٹاؤن شپ تیار کرنے کا منصوبہ
دھاراوی کی مجموعی بازآبادکاری کے منصوبے میں رہائش کے علاوہ دکانیں، اسکول، صحت کی خدمات، عبادت گاہیں، پارک، عوامی ٹرانسپورٹ اور دیگر سماجی سہولیات تیار کرنا بھی شامل ہے۔ منصوبے کے مطابق، لوگوں کی روزمرہ ضروریات سے متعلق اہم خدمات 15 منٹ کی پیدل مسافت کے اندر دستیاب کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ دھاراوی میں رہنے والے خاندانوں کے لیے اس منصوبے کی اہمیت صرف نئے مکانات ملنے تک محدود نہیں ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں لوگ چھوٹے کاروباروں، گھریلو صنعتوں اور دیگر مقامی روزگار سے وابستہ ہیں۔ اس لیے بازآبادکاری کے دوران رہائش کے ساتھ لوگوں کے روزگار اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کو برقرار رکھنا بھی اہم ہوگا۔ اڈانی نوبھارت ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ کو مہاراشٹر حکومت اور اڈانی گروپ کی شراکت داری کے ساتھ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس منصوبے میں پانی، بجلی، صفائی، ٹرانسپورٹ رابطوں اور ڈیجیٹل خدمات جیسی بنیادی ضروریات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازنے کے بعد جنرل دھیرج سیٹھ نے کہا، ’’آج کا دن…
مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات…
سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود…
11 اور 12 اکتوبر کو منعقدہ میلے میں گاؤں والوں نے جوش و خروش سے…
تلنگانہ کے کاماریڈی ضلع میں چوروں نے خواتین کی نائٹی اور چہرے پر ماسک پہن…
تقریباً 7.97 لاکھ نئے ووٹر شامل، حتمی فہرست میں 2.01 کروڑ سے زیادہ ووٹر درج،…