نئی دہلی: دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر کو احتجاج اور مظاہروں کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے نے اس کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے 2018 میں جنتر منتر پر احتجاج کے خلاف عائد مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پُرامن احتجاج کے حق کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مظاہرین کے حقوق اور مقامی رہائشیوں کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے احتجاج کو منظم کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اب دہلی پولیس نے جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی حیثیت سے ہٹا کر تین دیگر مقامات پر مظاہروں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے مطابق جائز ضابطہ بندی ہے یا اس سے پُرامن احتجاج کے حق پر غیر ضروری پابندی عائد ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے 2018 میں کیا کہا تھا؟
معاملہ مزدور کسان شکتی سنگٹھن بنام یونین آف انڈیا میں سپریم کورٹ کے سامنے آیا تھا۔ عدالت 2017 میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی جانب سے جاری اس حکم پر غور کر رہی تھی، جس میں جنتر منتر روڈ پر دھرنے، احتجاج، عوامی تقاریر اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے اور مظاہرین کو کسی متبادل مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ پُرامن احتجاج اور مظاہرے کرنا آئین کی دفعہ 19(1)(a) اور 19(1)(b) کے تحت بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔ ان دفعات کے تحت اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کے حقوق حاصل ہیں۔ تاہم، عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ جنتر منتر پر مظاہروں کے طریقۂ کار سے مقامی رہائشیوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عدالت کے مطابق، مظاہرین کے حقوق اور رہائشیوں کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے، لیکن کسی ایک فریق کے حق کو مکمل طور پر ختم کرنا درست نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ کسی حق کو مکمل طور پر ختم کر دینا حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا نہیں ہے۔ توازن کا مطلب یہ ہے کہ ایک فریق کے حق پر کسی حد تک پابندی عائد کی جائے تاکہ دوسرے فریق کے حقوق کا بھی تحفظ ہو سکے۔
مسئلہ احتجاج نہیں، انتظامیہ کی ناکافی ضابطہ بندی تھی
سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر پیدا ہونے والی خراب صورت حال کے لیے انتظامیہ کی جانب سے مناسب ضابطہ بندی نہ کیے جانے کو بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔ عدالت کے مطابق، حکام نے مظاہروں اور احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے تھے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے دہلی پولیس کمشنر کو متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ایسا نظام وضع کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کے تحت جنتر منتر کے ایک محدود حصے کو پُرامن عوامی اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ عدالت نے کہا تھا کہ جنتر منتر کو حکام نے خود احتجاجی مقام کے طور پر منتخب کیا تھا اور یہ علاقہ کافی عرصے سے مظاہروں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس لیے چھوٹے گروپوں کو محدود علاقے میں احتجاج کی اجازت دے کر دونوں فریقوں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ مظاہروں کو اس انداز میں منظم کیا جائے کہ جنتر منتر روڈ کے رہائشیوں اور وہاں واقع دفاتر کے کام کاج میں خلل یا پریشانی پیدا نہ ہو۔ حکام کو احتجاج کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دینے اور اجازت دینے یا مسترد کرنے کے لیے واضح معیارات وضع کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔
2019 میں بھی عدالت نے اسی موقف کو دہرایا
سپریم کورٹ نے 2019 کے ایک فیصلے میں بھی اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کیا تھا۔ عدالت نے 2018 کے فیصلے کو جنتر منتر پر مظاہروں کی ضابطہ بندی اور مظاہرین کے حقوق کے ساتھ مقامی رہائشیوں کے مفادات میں توازن قائم کرنے سے متعلق قرار دیا تھا۔ تاہم، 2018 کے فیصلے میں یہ واضح طور پر نہیں کہا گیا تھا کہ جنتر منتر کو ہمیشہ کے لیے احتجاجی مقام برقرار رکھا جائے۔ دوسری جانب، عدالت نے وہاں احتجاج پر مکمل پابندی کی بھی حمایت نہیں کی تھی۔ فیصلے کا بنیادی اصول یہ تھا کہ محدود اور منظم احتجاج کے ذریعے مختلف فریقوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
دہلی پولیس نے کن تین مقامات کو متبادل بنایا؟
دہلی پولیس کے نوٹس کے مطابق، جنتر منتر کو اب احتجاج اور مظاہروں کے لیے مقررہ مقام کی حیثیت حاصل نہیں رہے گی۔ اس کے بجائے تین مقامات کو احتجاج کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جن میں رام لیلا میدان، براڑی میدان اور مشرقی دہلی میں سی بی ڈی گراؤنڈ شامل ہیں۔ وزارت داخلہ نے متبادل مقامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، تاکہ شہریوں کو احتجاج اور مظاہرے منظم کرنے کے حق کے استعمال کے لیے مناسب جگہیں فراہم کی جا سکیں۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار نے کہا ہے کہ ان تینوں مقامات پر احتجاج اور مظاہروں کے انعقاد کے لیے تفصیلی اور نظرثانی شدہ معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) الگ سے جاری کیا جائے گا۔ نیا نوٹس 28 اپریل 2022 کے اسٹینڈنگ آرڈر نمبر L&O/48/22 میں جزوی ترمیم کرتا ہے۔
کیا جنتر منتر سے احتجاجی مقام کا درجہ ختم کرنا قانونی طور پر درست ہے؟
اس معاملے میں بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ آیا جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے مکمل طور پر ہٹانا پُرامن احتجاج کے حق کی جائز ضابطہ بندی ہے یا یہ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ حدود سے آگے بڑھتا ہے۔ 2018 کے فیصلے میں عدالت نے جنتر منتر پر احتجاج کے لیے محدود جگہ مختص کرنے اور مظاہروں کو منظم کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن اسے مستقل طور پر احتجاجی مقام برقرار رکھنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اس لیے صرف مقام کی تبدیلی کو خودبخود غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، یہ بھی اہم ہے کہ متبادل مقامات پر احتجاج کی اجازت کس حد تک مؤثر ہے، وہاں پہنچنا شہریوں کے لیے کتنا آسان ہے اور نئے ضابطے پُرامن اجتماع کے بنیادی حق کو عملی طور پر کس حد تک محفوظ رکھتے ہیں۔ ان امور کی روشنی میں ہی یہ سوال زیرِ غور آ سکتا ہے کہ دہلی پولیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ فی الحال، اس معاملے میں قانونی حیثیت کا حتمی تعین متعلقہ احکامات، نئے ضابطوں اور ان کے عملی اثرات کے جائزے پر منحصر ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 121ویں سالانہ اجلاس میں نئی قیادت…
علاقائی سلامتی، دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم سے نمٹنے کے لیے…
کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازنے کے بعد جنرل دھیرج سیٹھ نے کہا، ’’آج کا دن…
مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات…
ممبئی کے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ نے ایک اہم مرحلہ طے کرلیا ہے۔ ماٹونگا میں…
11 اور 12 اکتوبر کو منعقدہ میلے میں گاؤں والوں نے جوش و خروش سے…