نئی دہلی: ٹاٹا، جسے ہر کوئی قابل بھروسہ ساتھی مانتا ہے،، آج ایک ایسے دو راہے پر کھڑا ہے جہاں ’خدمت کا جذبہ‘ اور ’اقتدار کی خواہش‘ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں ملک کے سب سے بڑے کاروباری گھرانے ٹاٹا گروپ سے وابستہ ٹاٹا ٹرسٹس کی، جس میں جاری مفادات کے تضادات نے نہ صرف معاشی دنیا بلکہ حکومت کو بھی پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹاٹا ٹرسٹس میں جاری بحران کو سلجھانے کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کو حال ہی میں مداخلت کرنا پڑی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے ٹاٹا سنز اور ٹاٹا ٹرسٹس کے اعلیٰ نمائندوں سے ملاقات کی اور مسئلے پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح ہے کہ معاملہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، اور اگر یہ جمود برقرار رہا تو حکومتی مداخلت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق حکومت براہِ راست منتظم (Administrator) مقرر نہیں کر سکتی، لیکن بمبئی پبلک ٹرسٹس ایکٹ 1950 کی دفعات 41-A سے 41-D کے تحت چیریٹی کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر کسی ٹرسٹ میں بدانتظامی یا فیصلہ سازی کی ناکامی ہو تو وہ عارضی منتظم تعینات کر سکتا ہے۔
اختلافات سے بگڑ رہی ہے بات
پچھے کچھ عرصے سے آ رہی رپورٹس کے مطابق ٹاٹا ٹرسٹس میں اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ وہی ٹرسٹس ہے جو ٹاٹا سنز میں تقریباً 66 فیصد شیئر رکھتا ہے۔ سیدھے الفاظ کہیں تو، نمک سے لے کر سیمی کنڈکٹر تک کاروبار کرنے والے ٹاٹا گروپ کا حقیقی مالک ٹاٹا ٹرسٹس ہے۔ تنازع اس وقت ابھرا جب ٹاٹا سنز کی ممکنہ اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ پر بھی اختلافات سامنے آئے۔ یہ معاملہ تقریباً دس سال بعد دوبارہ ٹاٹا بمقابلہ شاپورجی پلونجی گروپ کے اُس تنازع کی یاد دلاتا ہے جو بھارت کی کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے جھگڑوں میں سے ایک رہا ہے۔ اس پورے تنازع کے مرکز میں ہیں مہلی مستری، جو سر دوراب جی ٹاٹا ٹرسٹ اور سر رتن ٹاٹا ٹرسٹ دونوں کے ٹرسٹی ہیں۔ مستری کی مدتِ کار کی تجدید کی آخری تاریخ قریب ہے، مگر تین ٹرسٹیوں کی منظوری اب تک نہیں ملی۔ ذرائع کے مطابق منظوری بھیجنے کی آخری تاریخ 28 اکتوبر ہے۔ اگر مستری، جو رتن ٹاٹا کے قریبی مانے جاتے ہیں، وقت پر توسیع حاصل نہیں کر پاتے تو یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہوگی جو موجودہ تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب اس معاملے پر اتفاق رائے ہونا مشکل لگ رہا ہے۔
ٹرسٹس میں مستری کی مدتِ کار پر تنازع
اطلاعات کے مطابق مستری کی مدت میں توسیع کے لیے تین ٹرسٹیوں، جن میں سینئر وکیل داریس کھمباٹا، بینکر پرمیت جھاویری، اور جہانگیر ایچ. سی. جہانگیر (جہانگیر اسپتال کے چیئرمین و سی ای او) نے حمایت کی ہے۔ وہیں، تجویز پر ابھی تک ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نوئل ٹاٹا، نائب صدر وینو سرینواسن اور وجے سنگھ نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ نوئل ٹاٹا، رتن ٹاٹا کے سوتیلے بھائی ہیں اور ٹاٹا گروپ کی کئی کمپنیوں میں قیادت کے عہدوں پر فائز ہیں۔ رتن ٹاٹا کے انتقال کے بعد انہیں ٹاٹا ٹرسٹس کا چیئرمین بنایا گیا۔ گزشتہ ہفتے، سرینواسن نے تمام ٹرسٹیوں سے اپنی مدتِ کار میں توسیع کی منظوری حاصل کر لی تھی، حالانکہ مستری نے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر ایک ٹرسٹی کی مدت میں توسیع کی جاتی ہے تو تمام ٹرسٹیوں کی مدت میں بھی توسیع ہونی چاہیے۔ مستری کے حمایتی فریق کا کہنا ہے کہ مدت کی تجدید خودبخود ہو جانی چاہیے، اور اس کے بعد ٹرسٹی تاحیات ٹرسٹی (Life Trustee) بن جاتے ہیں۔ دوسری جانب، مخالف فریق کا مؤقف ہے کہ ایسا خود نہیں ہوتا۔ رتن ٹاٹا کے انتقال کے بعد، گزشتہ سال ٹاٹا ٹرسٹس نے ایک تجویز منظور کی تھی کہ ہر ٹرسٹی کو مدتِ کار میں توسیع کے بعد تاحیات ٹرسٹی شپ (Life Trusteeship) مل جائے گی۔ حالانکہ، اس مسئلے پر قانونی ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ گزشتہ ہفتے، سرینواسن نے اپنی مدت بڑھوانے کی منظوری حاصل کر لی، لیکن مستری کا مؤقف ہے کہ اگر ایک ٹرسٹی کی مدت بڑھائی جائے تو سب کی بڑھائی جائے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ توسیع خودبخود ہو جاتی ہے اور اس کے بعد ٹرسٹی تاحیات رہتے ہیں، جبکہ مخالف فریق کا کہنا ہے کہ ایسا خودبخود نہیں ہوتا۔ قانونی ماہرین بھی اس مسئلے پر منقسم ہیں۔
سابق دفاعی سیکریٹری کی وجہ سے آئی دراڑ
ٹرسٹیز کے درمیان دراڑ اس وقت سامنے آیا جب مستری گروپ نے سابق دفاعی سیکریٹری وجے سنگھ کو ٹاٹا سنز بورڈ میں ٹرسٹس کے نمائندے کے طور پر نامزد کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ واضح رہے کہ ٹاٹا سنز کے بورڈ میں نوئل ٹاٹا اور وینو سرینواسن بھی نامزد ہیں۔ ٹاٹا ٹرسٹس کو بورڈ میں ایک تہائی ڈائریکٹر نامزد کرنے اور ویٹو پاور حاصل ہے۔ تنازعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹاٹا ٹرسٹس میں جاری بحران کی وجہ سے وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے ٹرسٹس کے اعلیٰ نمائندوں سے ملاقات کی اور اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔ اطلاعات کے مطابق، انہوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ ٹاٹا گروپ میں استحکام برقرار رہنا چاہیے کیونکہ اس کا بھارتی معیشت پر بڑا اثر ہے۔ اسی کے ساتھ، بھارتی ریزرو بینک (RBI) نے بھی ٹاٹا سنز کو 30 ستمبر 2025 تک لسٹڈ (شیئر بازار میں شامل) ہونے کی ہدایت دی تھی، جو اکتوبر 2022 میں نافذ کیے گئے اسکیل پر مبنی ضابطہ جاتی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ حالانکہ، ٹاٹا ٹرسٹس نے ٹاٹا سنز کو RBI سے بات چیت کر کے عوامی فہرست میں شامل ہونے (پبلک لسٹنگ) کے عمل کو روکنے کا مشورہ دیا تھا۔ دوسری جانب، شاپورجی پلونجی گروپ، جس کی ٹاٹا سنز میں تقریباً 18 فیصد حصے داری ہے، نے حال ہی میں ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی کی لسٹنگ کا مطالبہ دوبارہ دہرایا ہے۔
غیر یقینی صورتحال سے بحران کا خطرہ
موجودہ حالات کی وجہ سے اگرچہ ٹاٹا گروپ کا مستقبل غیر محفوظ نہ ہو، لیکن غیر یقینی کے بادل ضرور چھا گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹاٹا ٹرسٹس کے اندر تقسیم ( مہلی مستری بمقابلہ نوئل ٹاٹا) صرف انتظامی نہیں بلکہ پالیسی اور کنٹرول کا معرکہ ہے۔ کیونکہ ٹاٹا ٹرسٹس کے پاس ٹاٹا سنز میں تقریباً 66 فیصد حصے داری ہے، یعنی وہ اصلی کنٹرولر ہیں۔ اگر ٹرسٹیوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوتا، تو فیصلہ سازی کا عمل سست پڑ جائے گا، جس سے نئی تقرریاں، سرمایہ کاری، CSR اور ٹاٹا سنز کی حکمتِ عملیوں پر اثر پڑے گا۔ اور تنازعہ بڑھتا ہے تو سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹاٹا گروپ کی کمپنیاں — جیسے TCS، ٹاٹا اسٹیل، ٹاٹا موٹرز وغیرہ — مضبوط مالی بنیاد پر کھڑی ہیں، اس لیے کاروباری لحاظ سے گروپ مستحکم رہے گا۔ لیکن، انتظامی عدم استحکام اُس وقت تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک ٹاٹا ٹرسٹس کے اندر اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو جاتا۔
حکومتی مداخلت کا امکان
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت براہِ راست مداخلت کے بجائے ریگولیٹری طریقے سے قدم اٹھا سکتی ہے۔ دراصل ٹاٹا ٹرسٹس ایک “پبلک چیریٹیبل ٹرسٹ” ہے، جو بمبئی پبلک ٹرسٹس ایکٹ 1950 کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ اس قانون کی دفعات 41-A سے 41-D کے تحت اگر کسی ٹرسٹ میں بدانتظامی یا وسائل کے غلط استعمال کے شواہد ملیں تو چیریٹی کمشنر ہدایت، تحقیقات یا عارضی منتظم مقرر کر سکتا ہے۔ اس قانون کی دفعہ 41-A سے 41-D کے تحت، اگر کسی ٹرسٹ میں سنگین بدانتظامی، اثاثوں کا غلط استعمال یا ٹرسٹ کے مقاصد سے انحراف پایا جائے، تو چیریٹی کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ٹرسٹ کو ہدایات جاری کر سکتا ہے، جانچ کرا سکتا ہے یا عارضی منتظم (Administrator/Receiver) مقرر کر سکتا ہے۔ اگر ٹرسٹ بورڈ فیصلہ نہیں لے پا رہا ہے اور عوامی فنڈز متاثر ہو رہے ہے، تو اس کا امکان بہت زیادہ ہے۔
این سی ایل ٹی میں بھی جا سکتا ہے معامہ
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹاٹا سنز ایک ہولڈنگ کمپنی ہے اور اس پر وزارتِ کارپوریٹ امور (MCA) اور آر بی آئی (as NBFC) کا کنٹرول ہے۔ کمپنی ایکٹ کی دفعات 241-242 کے تحت اگر کسی کمپنی میں کچھ غلط ہوتا ہے تو مرکزی حکومت نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (NCLT) میں درخواست دے کر بورڈ یا انتظامیہ کو بدلنے کا حکم دکا سکتی ہے — یہ وہی دفعات ہیں جس کے تحت سائرس مستری معاملہ NCLT میں چلا تھا۔
“خدمت یا اقتدار”، جاری ہے کشمکش
ٹاٹا ٹرسٹس آج ایک اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں ’خدمت کی روح‘ اور ’اقتدار کی خواہش‘ آمنے سامنے ہیں۔ مہلی مستری کی مدتِ کار کا اب ایک شخص کا مدعا نہیں بچا ہے۔ اب حکومت اس تنازع کی جگہ استحکام چاہتی ہے اور ٹرسٹی سے جڑے لوگ اس پر اپنا کنٹرول، لیکن بازار صرف شفافیت چاہتا ہے۔ ایسے میں آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا ٹاٹا گروپ اپنی اخلاقی وراثت کو قائم رکھ پائے گا یا یہ بھی ان کارپوریٹ گھرانوں میں شامل ہو جائے گا، جہاں اصول آہستہ آہستہ بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…