قومی

Bihar News: کے کے پاٹھک کے مدت کار میں ہوئے کاموں کی جانچ کا مطالبہ، کروڑوں روپے کی ہیرا پھیری کے الزامات

پٹنہ: بہار حکومت نے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے مشہور افسر کے کے پاٹھک کو جمعرات کے روز محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کے عہدے سے ہٹا کر ریونیو لینڈ ریفارمز ڈپارٹمنٹ کا ایڈیشنل چیف سکریٹری بنا دیا گیا۔ دوسری جانب حکمراں جماعت اور اپوزیشن محکمہ تعلیم میں ان کے مدت کار کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ کے کے پاٹھک کے دور میں محکمہ میں کروڑوں روپے کا گھپلہ ہوا۔ بی جے پی قانون ساز کونسلر نول کشور یادو نے کہا کہ صرف ٹرانسفر سے کام نہیں چلے گا۔ ان کے دور میں کیے گئے کاموں کی تحقیقات ہونی چاہیے اور انھیں سزا ملنی چاہیے۔ کروڑوں روپے کا غلط استعمال ہوا۔ بنچ ڈیسک کی خریداری اور اسکول میں بورنگ کے نام پر رقم کی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ وہ پورے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

سی پی آئی (ایم ایل) کے ایم ایل اے رامبالی سنگھ نے بھی الزام لگایا ہے کہ کے کے پاٹھک کے دور میں محکمہ تعلیم میں کروڑوں روپے کا گھپلہ ہوا۔ محکمہ تعلیم میں بہت بڑی لوٹ مار ہوئی ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ اس کے تبادلے سے اساتذہ، طلبہ اور والدین راحت محسوس کر رہے ہیں۔ کے کے پاٹھک کے دور میں کئی غیر انسانی فیصلے لیے گئے۔ اسکولوں میں بنچوں اور ڈیسکوں کی خریداری میں بڑی لوٹ مار ہوئی ہے۔ کئی مقامات پر شیڈ بھی بنائے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اب ایسے افسر سے کیوں ‘فدا’ ہیں، وہ جانیں۔

اساتذہ کی چھٹیوں کے حوالے سے ہوا کافی تنازعہ

بتا دیں کہ کے کے پاٹھک ہمیشہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ وہ محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری بننے کے بعد روشنی میں آئے۔ محکمہ تعلیم میں آنے کے بعد سے مسلسل احکامات جاری کر رہے تھے۔ کے کے پاٹھک کے کئی فیصلوں کو لے کر کافی تنازعہ ہوا تھا۔ پچھلے سال تہواروں کے دوران اساتذہ کی چھٹیوں کے حوالے سے کافی سیاست ہوئی تھی۔ دراصل، انہوں نے تہواروں کے دوران دستیاب اساتذہ کی کئی چھٹیاں منسوخ کر دی تھیں۔ جس کی وجہ سے وہ اپوزیشن کا نشانہ بن گئے۔

محکمہ تعلیم میں کئے گئے کئی اہم فیصلے

کے کے پاٹھک ایک سخت افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف تنازعات میں گھرے رہے ہیں بلکہ محکمہ تعلیم میں تبدیلیاں لانے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کئی اہم فیصلے لیے۔ جس کی وجہ سے بہار کے سرکاری اسکولوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔ اساتذہ اور طلباء وقت پر اسکول پہنچنا شروع ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لاکھوں اساتذہ کو بحال کیا۔ جس کی وزیر اعلیٰ نے کھلے اسٹیج سے تعریف بھی کی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Sangh UGC Viniyam: سنگھ کے ’غیر متوازن‘ تبصرے سے اقتدار، تنظیم اور سماجی توازن کا امتحان

آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے یو جی سی کے…

26 minutes ago

Ind vs NZ Vaibhav Suryavanshi: ’یہ ویبھو پروٹیسٹ کر رہا ہے!’ پلیئنگ الیون سے باہر ہونے پر اکشر پٹیل نے لی چٹکی، ویڈیو وائرل

ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری ٹی 20 میچ سے پہلے نوجوان بلے باز…

50 minutes ago

شمیم نکہت اردو فکشن ایوارڈ ڈاکٹر صبیحہ انور اور وقار رضوی صحافت ایوارڈ سنجے شرما کو تفویض، آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی، لکھنؤ میں تقریب منعقد

ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو…

1 hour ago

Successful 5 Years of Social Change: برج کمیونیکیشنز نے یومِ تاسیس منایا، نیپال سے بین الاقوامی توسیع کا آغاز

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برج کمیونیکیشنز سماجی ترقی کے شعبے میں ایک جامع اور…

1 hour ago

Dr Priti Adani to Address The World Symposium: وارانسی میں 2 سے 4 نومبر تک ’ارسطو-کنفیوشس سمپوزیم 2026‘ کا انعقاد، ڈاکٹر پریتی اڈانی کریں گی خطاب

بین الاقوامی اجلاس میں دنیا کی اہم فلسفیانہ اور تہذیبی روایات کے درمیان مکالمے، مصنوعی…

2 hours ago