قومی

Delhi SIR Draft Electoral Roll Published: دہلی میں ایس آئی آر کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری، 47.7 لاکھ نام ہٹائے گئے، سامنے آئی پوری تفصیل

نئی دہلی: الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک کی تمام ریاستوں اورمرکزکے زیرانتظام علاقوں میں ووٹرلسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر(خصوصی گہری نظرثانی) کا عمل جاری ہے۔ اس کے تحت ووٹرلسٹ کواپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے اوربڑی تعداد میں ایسے نام حذف کئے جا رہے ہیں، جومقررہ معیارپرپورے نہیں اترتے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آرکا مقصد کسی بھی اہل ووٹرکوفہرست سے باہرنہ رکھنا اورکسی بھی نااہل شخص کوووٹرلسٹ میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔ اسی سلسلے میں دہلی میں بھی ایس آئی آرکے تحت ڈرافٹ ووٹرلسٹ جاری کردی گئی ہے۔ سامنے آنے والے اعداد وشمارکے مطابق، دہلی کی ووٹرلسٹ سے تقریباً 47.7 لاکھ افراد کے نام حذف کئے گئے ہیں۔

1.45 کروڑ ووٹروں میں سے 47.7 لاکھ نام حذف

دہلی کے چیف الیکشن آفیسرکے دفترکی جانب سے جاری معلومات کے مطابق، ایس آئی آرکے تحت ڈرافٹ ووٹرلسٹ جاری کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران دہلی کے تقریباً 1.45 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 47.7 لاکھ نام موجودہ فہرست سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق، ایس آئی آرکے بعد جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹرلسٹ میں تقریباً 97.5 لاکھ ووٹروں کے نام شامل ہیں۔

30 ستمبر تک دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کا موقع

جن افراد کے نام ڈرافٹ ووٹرلسٹ میں شامل نہیں ہیں، انہیں اپنے نام دوبارہ شامل کرانے کے لئے دعویٰ پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ دہلی کے چیف الیکشن آفیسرکے مطابق، ایسے افراد 30 ستمبرتک فارم-6 اورضروری دستاویزات کے ساتھ اپنے دعوے داخل کرسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے تازہ شیڈول کے مطابق، موصول ہونے والے دعووں اوراعتراضات کی جانچ کی جائے گی۔ اس کے بعد نوٹس جاری کرنے اوردعووں کے تصفیے کا عمل 29 اکتوبرتک جاری رہے گا۔ حکام کے مطابق، دعووں اوراعتراضات کے تصفیے کے بعد دہلی میں ایس آئی آرکے تحت حتمی ووٹرلسٹ 4 نومبرکوجاری کی جائے گی۔ اس فہرست میں ان افراد کے نام شامل کئے جائیں گے، جومقررہ عمل کے تحت اہل پائے جائیں گے۔

کن بنیادوں پرنام حذف کئے گئے؟

الیکشن کمیشن کے مطابق دہلی میں ایس آئی آرکے دوران گھرگھرجا کراینیومریشن فارم تقسیم کرنے، ووٹروں کی معلومات جمع کرنے اورانہیں ڈیجیٹلائزکرنے کا عمل 30 جون کوشروع ہوا تھا، جو 17 اگست کومکمل ہوا۔ اس پورے عمل کے دوران دہلی کے مجموعی 1,45,10,299 ووٹروں میں سے تقریباً 67.18 فیصد ووٹروں کے فارم ڈیجیٹلائزکئے گئے۔ باقی تقریباً 47.7 لاکھ ووٹروں کو’غیرحاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ، ڈپلیکیٹ اوردیگر‘ (اے ایس ڈی ڈی او) زمروں میں رکھا گیا ہے۔ ان ووٹروں کی معلومات حاصل نہ ہوسکنے کی وجہ سے انہیں ’ان کلیکٹ ایبل‘ (Uncollectable) یعنی جن کے بارے میں مطلوبہ معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں، کے طورپردرج کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان 47.7 لاکھ ووٹروں کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کئے گئے ہیں۔ تاہم ایسے افراد مقررہ مدت کے اندرضروری دستاویزات کے ساتھ اپنا دعویٰ پیش کرکے ووٹرلسٹ میں نام شامل کرانے کی درخواست دے سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

2 hours ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

3 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

3 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

4 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

4 hours ago