قومی

Delhi Riots: دہلی فسادات: کڑکڑڈوما عدالت نے عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین کو قرار دیا مجرم

شمال مشرقی دہلی میں سال 2020 میں ہونے والے فسادات سے متعلق دیال پور تھانہ علاقے کے ایک معاملے میں کڑکڑڈوما عدالت نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے سابق کونسلر طاہر حسین کو مجرم قرار دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج پروین کمار نے دونوں فریقوں کے دلائل اور طویل جرح سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے بھارتی تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 147، 109 اور دیگر سنگین دفعات کے تحت طاہر حسین کو مجرم قرار دیا ہے۔ وہیں، اس معاملے میں شریک ملزم بنائے گئے 12 دیگر افراد کو عدالت نے بری کردیا۔

16 نومبر کو سزا پر ہوگی بحث

عدالت نے طاہر حسین کی سزا کے معاملے پر سماعت کے لیے 16 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس روز دونوں فریق سزا کے حوالے سے اپنے دلائل پیش کریں گے۔ عدالت سے بری ہونے والے 12 ملزمان میں محمد شاداب، شاہ عالم، ریاضت علی، گل فام، محمد ریحان، ارشد قیوم، دیپک سنگھ سینی، نوین، مہک سنگھ اور ارشاد احمد سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ عدالت نے ان تمام ملزمان کو الزامات سے بری کردیا ہے۔

انکت شرما قتل معاملے میں بھی سنائی جاچکی ہے عمر قید کی سزا

اس سے پہلے کڑکڑڈوما عدالت نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے اہلکار انکت شرما کے قتل کے معاملے میں بھی طاہر حسین کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف طاہر حسین کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔ انکت شرما قتل معاملے کی سماعت کے دوران دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ قتل سے پہلے انکت کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے جسم پر 51 زخم پائے گئے تھے، جن میں سے 7 زخم ایسے تھے جو براہ راست موت کا سبب بن سکتے تھے۔ اس کے علاوہ 16 زخم دھار دار ہتھیار سے پہنچائے گئے تھے۔

دفاعی فریق نے کیا دلائل دیے؟

عدالت میں سماعت کے دوران طاہر حسین کے وکیل نے پھانسی کی سزا کے مطالبے کی مخالفت کی تھی۔ دفاعی فریق کا کہنا تھا کہ ہر معاملے میں سزائے موت نہیں دی جاسکتی اور یہ کیس ’نایاب ترین میں سے نایاب‘ کے زمرے میں نہیں آتا۔ وکیل نے یہ دلیل بھی دی تھی کہ جس مقام پر انکت شرما کا قتل ہوا، وہاں طاہر حسین موجود نہیں تھے اور نہ ہی قتل کی کسی سازش میں ان کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔دفاعی فریق نے کہا تھا کہ پولیس اس معاملے میں مجرمانہ سازش سے متعلق بھارتی تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی کے تحت کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی۔

تاہم، قانونی دلائل اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے دیال پور علاقے سے متعلق اس معاملے میں طاہر حسین کو مجرم قرار دیا، جبکہ دیگر 12 ملزمان کو بری کردیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Adani Defence SIDM Champion Award 2026: دفاعی برآمدات میں اڈانی ڈیفنس کا نمایاں کارنامہ، SIDM چیمپئن ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا

اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس کو دفاعی اور ایرو اسپیس مصنوعات کی برآمدات میں بہترین…

3 minutes ago

Golan Targets Benjamin Netanyahu: ’خامنہ ایی کو مارنا اسرائیل کی سب سے بڑی غلطی‘، ایران کے سپریم لیڈر کی موت پر نیتن یاہو اپنے ہی ملک میں گھرے

اسرائیلی اپوزیشن جماعت ’دی ڈیموکریٹس‘ کے لیڈر یائر گولان نے قتل کو اسٹریٹجک غلطی قرار…

2 hours ago

Yogi Challenges Akhilesh: ’میں تیار ہوں، آپ بھی ایودھیا سے الیکشن لڑ کر دکھائیں‘، یوگی آدتیہ ناتھ کا اکھلیش یادو کو کھلا چیلنج

وزیر اعلیٰ نے ایودھیا کے حوالے سے اکھلیش یادو کے سیاسی بیانات کا جواب دیتے…

2 hours ago

Dhruv Rathi Detained by Delhi Police: دہلی پولیس کی بڑی کارروائی، سی جے پی کے احتجاج سے پہلے یوٹیوبر دھروو راٹھی حراست میں

کروڑوں فالوورز والے یوٹیوبر کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے…

3 hours ago