لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے دہلی میں مجوزہ سی جے پی احتجاج کے دوران لیڈروں کی گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ صورت حال کو جمہوریت کے لیے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات ایسے دکھائی دے رہے ہیں جیسے ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہو۔ وانگچک نے گرفتار لیڈروں کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سونم وانگچک نے دہلی میں احتجاج سے قبل لیڈروں کو حراست میں لیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی کئی اہم سوالات کھڑے کرتی ہے اور جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے گرفتار لیڈروں کو فوری طور پر رہا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ جلد اس معاملے میں ضروری اقدامات کرے گی۔
کئی لیڈروں کو حراست میں لیے جانے پر سوالات
وانگچک نے جن لیڈروں کی گرفتاری کا معاملہ اٹھایا ہے، ان میں ابھیجیت دپکے، سوربھ داس، آشوتوش رانکا اور کاکروچ پارٹی سے وابستہ کئی دیگر افراد شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی لیڈروں کو حراست میں لینا سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں انتظامیہ سے جلد کارروائی کرنے کی توقع ظاہر کی۔
سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام دیا
سونم وانگچک نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک دن پہلے ہی انہوں نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پُرامن رہیں اور احتجاج کے دوران اتحاد برقرار رکھیں۔ وانگچک کے مطابق، اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ صورتِ حال اس حد تک پہنچ جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اس طرح کے حالات پیدا ہونا باعث تشویش ہے۔
غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسے حالات کا دعویٰ
اپنے بیان میں وانگچک نے کہا کہ انہیں ملک کا موجودہ ماحول غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسا محسوس ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ باضابطہ طور پر ایمرجنسی نافذ نہیں ہے، لیکن جب لوگوں کو اپنے حقوق کے حوالے سے تشویش لاحق ہونے لگے تو ایسے حالات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے حالیہ واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے گرفتار لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
تحریک کی قیادت کرنے والوں کے بارے میں کیا کہا؟
وانگچک نے کہا کہ انہیں اس بات سے اطمینان تھا کہ تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کئی افراد قیادت کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ تاہم، جب انہیں ان لیڈروں کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو وہ حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام میں بات چیت اور احتجاج، دونوں کے لیے جگہ ہونی چاہیے اور اختلافِ رائے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
رہائی نہیں ہوئی تو بھوک ہڑتال یا پیدل مارچ کریں گے
ماحولیاتی کارکن نے واضح کیا کہ اگر کل تک گرفتار لیڈروں کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ خود احتجاج کے اگلے مرحلے کے بارے میں غور کریں گے۔ ان کے مطابق، ایسی صورت میں بھوک ہڑتال شروع کرنے یا پیدل مارچ نکالنے جیسے اقدامات پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر پُرامن طریقے سے اپنی بات رکھنے اور اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا۔
سکیورٹی انتظامات کے درمیان سیاسی بحث تیز
10 اکتوبر کو دہلی میں مجوزہ CJP احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات پہلے ہی سخت کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب لیڈروں کی گرفتاری کے معاملے پر سیاسی بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ سونم وانگچک کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب احتجاج کے حق اور حراست میں لیے جانے کی کارروائی کو لے کر مختلف فریق اپنی اپنی رائے پیش کر رہے ہیں۔ ان کے بیان کے بعد اس پورے معاملے پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس کو دفاعی اور ایرو اسپیس مصنوعات کی برآمدات میں بہترین…
دیال پور علاقے سے متعلق معاملے میں 12 دیگر ملزمان بری، طاہر حسین کی سزا…
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ان کے سیاسی مخالفین کی سب سے…
اسرائیلی اپوزیشن جماعت ’دی ڈیموکریٹس‘ کے لیڈر یائر گولان نے قتل کو اسٹریٹجک غلطی قرار…
وزیر اعلیٰ نے ایودھیا کے حوالے سے اکھلیش یادو کے سیاسی بیانات کا جواب دیتے…
کروڑوں فالوورز والے یوٹیوبر کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے…