لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی حکومت، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں راہل گاندھی نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے وزیر اعظم نریندر مودی، آر ایس ایس اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کے طریقۂ کار کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’میں نریندر مودی، آر ایس ایس اور ان سے وابستہ لوگوں کے خلاف ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑ رہا ہوں۔ میں اپنے مخالفین کو اتنی اچھی طرح سمجھتا ہوں، جتنا کوئی بھی اپنے حریف کو سمجھ سکتا ہے۔ میں انہیں اندر تک جانتا ہوں اور ان کی ہر چال سے واقف ہوں۔‘‘
’میرے سیاسی مخالفین کی سب سے بڑی پہچان بزدلی ہے‘
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ان کے سیاسی مخالفین کی سب سے بڑی پہچان ’بزدلی‘ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اب آہستہ آہستہ ان کے اردگرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ گرفتاریوں اور سکیورٹی فورسز کے استعمال سے اپوزیشن کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا، ’’جو کرنا ہے، کر لیجیے۔ جتنی پولیس بلانی ہے، بلا لیجیے۔ تمام لیڈروں کو گرفتار کر لیجیے، تمام نوجوانوں کو گرفتار کر لیجیے، ہم سب کو گرفتار کر لیجیے، لیکن ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ضروری معلومات موجود ہیں اور ان کی لڑائی آئین اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں۔ ساتھ ہی یقین دلایا کہ کانگریس ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب کانگریس لیڈروں نے دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے مرکزی حکومت اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
I’ve been fighting Narendra Modi and the RSS for over a decade now. I understand them like you would understand your opponent – inside out, like the back of my hand.
The core characteristic of these people is cowardice.
Narendra Modi, Amit Shah, Mohan Bhagwat, Gyanesh Kumar and Ajit Doval, the villains of this story, are slowly finding the space closing around them. We are closing that space.
Mr. Modi, do whatever you want. Call out all the police: 10,000, 20,000, 50,000, whatever you want.
Arrest all the leaders. Arrest all the young people. Arrest us all.
We are surrounding you, and we are not going to back down. Mark my words: we already have the information we need.
We are going to defend our Constitution. We are going to protect the voice of the Indian people. And we are going to ensure that what was done to India over the last 10-15 years will never, ever be done again.
Youth of India, I am proud of you. Keep protesting. We are standing with you.
We are going to ensure that this regime and the people who have attacked our Constitution are defeated.
मैं नरेंद्र मोदी, RSS और इनसे जुड़े लोगों के ख़िलाफ़ एक दशक से भी ज़्यादा समय से लड़ रहा हूँ। मैं अपने विरोधियों को उतनी अच्छी तरह समझता हूँ, जितना कोई भी अपने प्रतिद्वंद्वी को समझता है। मैं इन्हें अंदर तक जानता हूँ, इनकी हर चाल से वाक़िफ़ हूँ।
इन लोगों की सबसे बड़ी पहचान है – कायरता।
नरेंद्र मोदी, अमित शाह, मोहन भागवत, ज्ञानेश कुमार, अजीत डोभाल – इस कहानी के खलनायक – अब धीरे-धीरे घिरते जा रहे हैं। इनके चारों तरफ़ से दायरा सिमट रहा है।
जो करना है, कर लीजिए। जितनी पुलिस बुलानी है, बुला लीजिए – 10 हज़ार, 20 हज़ार, 50 हज़ार, जितनी चाहें बुला लीजिए।
सारे नेताओं को गिरफ़्तार कर लीजिए। सारे युवाओं को गिरफ़्तार कर लीजिए। हम सबको गिरफ़्तार कर लीजिए।
घबराइये मत – हम आपको चारों तरफ़ से घेर रहे हैं, और हम पीछे हटने वाले नहीं हैं।
मेरी बात याद रखिए – हमें जो जानकारी चाहिए, वह हमारे पास पहले से है।हम अपने संविधान की रक्षा करेंगे। हम हिंदुस्तान की जनता की आवाज़ की हिफ़ाज़त करेंगे। और हम यह सुनिश्चित करेंगे कि पिछले 10-15 सालों में हिंदुस्तान के साथ जो हुआ है, वह दोबारा कभी, किसी भी सूरत में न हो।
हिंदुस्तान के युवाओं, मुझे आप पर गर्व है। अपना विरोध जारी रखिए। हम आपके साथ खड़े हैं।
हम यह सुनिश्चित करेंगे कि इस सरकार और हमारे संविधान पर हमला करने वालों को शिकस्त मिले।
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 10, 2026
پرینکا گاندھی کا الزام، ’دہلی کو قلعے میں تبدیل کر دیا گیا‘
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے معاملے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری احتجاج کو روکنے کے لیے دارالحکومت دہلی کو ’قلعے‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پرینکا گاندھی کے مطابق، نوجوانوں اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کو ان کے آئینی حقوق استعمال کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں ملک کے مفادات کے خلاف ہیں اور حکومت تنقید سے گھبرائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
جے رام رمیش نے بھی حکومت اور الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوالات
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دارالحکومت میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت احتجاجی مظاہروں سے پریشان ہے۔ جے رام رمیش نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر بھی اعتراض کیا اور اسے جمہوری حقوق سے متعلق اہم معاملہ قرار دیا۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ نوجوانوں، طلبہ اور ووٹروں سے متعلق مسائل کو لے کر اس کی تحریک آئندہ بھی جاری رہے گی۔ پارٹی لیڈروں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج کے حق، آئینی آزادیوں اور ووٹر لسٹوں کی نظرثانی جیسے معاملات پر مرکزی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اسرائیلی اپوزیشن جماعت ’دی ڈیموکریٹس‘ کے لیڈر یائر گولان نے قتل کو اسٹریٹجک غلطی قرار…
وزیر اعلیٰ نے ایودھیا کے حوالے سے اکھلیش یادو کے سیاسی بیانات کا جواب دیتے…
کروڑوں فالوورز والے یوٹیوبر کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے…
طلبہ یونین محض ایک انتخابی ادارہ نہیں، بلکہ طلبہ کی آواز، ان کی قیادت، سیاسی…
زیلنسکی نے روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کی، امریکہ سے یوکرین اور…
ٹی ایم سی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ممتا بنرجی کو دہلی پولیس…